لوحِ محفوظ
Urdu book, p. 457
By Maulana Wahiduddin Khan
لوح محفوظ قرآن کی سورۃ البروج میں یہ آیت آئی ہے: بَلْ هُوَ قُرْآنُ مَّجِیدٌ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (85:21-22) یعنی وہ ایک با عظمت قرآن ہے، لوح محفوظ میں۔ اس آیت میں لوح محفوظ (well-guarded tablet) کا مطلب کیا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی مستند حدیث موجود نہیں۔ تا ہم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ملاءِ اعلیٰ میں ایک محفوظ لوح ہے اور اس لوح پر قرآن کا متن لکھا ہوا ہے۔ یہ بات اصولاً درست ہے، لیکن لوح سے مراد معروف لوح نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ربانی لوح ہے۔ اصل یہ ہے کہ پورا عالم موجودات مکمل طور پر اللہ کے امر کے تحت ہے۔ شمس و قمر اور دوسرے ستاروں اور سیاروں کے بارے میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اُن کا ایک مقرر کورس ہے، اور وہ ادنیٰ انحراف کے بغیر اس مقرر کورس پر چلتے ہیں (36:38)۔ اسی معاملے کو علمی طور پر اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ عالم مادی ، فطرت کے قانون کی پابند ہے، اور عالم حیوانات اپنی جبلت (instinct) کی پابند۔ انسان کا معاملہ بظاہر مختلف ہے، کیوں کہ انسان کو اپنے قول و عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ مگر اس آزادی کے باوجود انسانی تاریخ پر اللہ نے اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔ تاریخ پر اسی کنٹرول کی ایک صورت وہ ہے جس کو قرآن کے حوالے سے اس طرح بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک لوح محفوظ میں ہے۔ لوح محفوظ کا معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں ہے، مطالعہ کے ذریعے اس کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن سے پہلے اپنے نبیوں کے ذریعے بہت سی کتابیں بھیجیں جو انسان کے لیے معتبر ہدایت نامہ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ مگر پچھلی کتابیں محفوظ نہ رہ سکیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ اب آخری پیغمبر بھیج دیا جائے تو اس فیصلے کا ایک تقاضا یہ بھی تھا کہ آخری پیغمبر کے ذریعے آئی ہوئی کتاب (قرآن) کی مستقل حفاظت کا انتظام کر دیا جائے۔ لوح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader