Urdu book · اظہارِ دین

انسانی تاریخ کی تعبیر

Urdu book, p. 462

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی تاریخ کی تعبیر (Interpretation of Human History) تاریخ کیا ہے ، تاریخ گزرے ہوئے ماضی کی سرگذشت کا دوسرا نام ہے۔ تاریخ کے موضوع پر جو کتا بیں لکھی جاتی ہیں ، وہ عام طور پر گزرے ہوئے واقعات کا ریکارڈ ہوتی ہیں۔ لیکن تاریخ کا ایک ضمنی موضوع وہ ہے جس کو فلسفہ تاریخ (philosophy of history) یا تعبیر تاریخ (interpretation of history) کہا جاتا ہے۔ اس موضوع کا مقصد یہ ہے کہ تاریخ انسانی کے واقعات کی ایک ایسی تو جیہ تلاش کی جائے جس میں مختلف واقعات کے درمیان ایک قابل فہم ربط در یافت کیا جاسکے۔ تاریخ کے پہلے موضوع ( تاریخ نگاری) پر بڑی تعداد میں کتا بیں موجود ہیں ، لیکن جہاں تک تعبیر تاریخ کے موضوع کا تعلق ہے ، اس موضوع پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کو تاریخ کی قابل فہم تو جیہ قرار دیا جاسکے۔ اس کا سبب ڈاکٹر الکسس کیرل نے اپنی کتاب انسان نامعلوم“ (Man the Unknown) میں درست طور پر یہ بتایا ہے کہ تعبیر تاریخ کا موضوع براہ راست طور پر انسان کی آزادی سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان قابل پیشین گوئی نہیں ، اس لیے اس کے عمل کی کوئی جامع تو جیہ بھی ممکن نہیں۔ ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے ، اس لیے انسانی تاریخ کی مجموعی تعبیر سخت مشکل کام ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کی تاریخ دو متضاد تقاضوں کے درمیان سفر کرتی ہے۔ ان دونوں تقاضوں کو آزادی اور جبر (freedom and determinism) کہا جاسکتا ہے۔ میرے علم کے مطابق ، کوئی مورخ ان دو متضاد تقاضوں کے درمیان ربط قائم کرنے کا کوئی اصول دریافت نہ کرسکا ، اس لیے وہ انسانی تاریخ کی کوئی کامیاب تعبیر بھی پیش نہ کرسکا۔ راقم الحروف نے اس موضوع پر کافی غور وفکر کیا اور تعبیر تاریخ کا اصول در یافت کرنے کی کوشش کی۔ آخر کار مجھے قرآن کی ایک آیت میں یہ اصول دریافت ہوا۔ وہ آیت یہ ہے : وَعَلَى

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page