Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 463

By Maulana Wahiduddin Khan

اللهُ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَآئِرٌ ۚ وَلَوْ شَآءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِيْنَ (16:9) ۔ یعنی، الله کے اوپر ہے (انسانیت کو) صراطِ مستقیم پر قائم رکھنا، اور کچھ راستے منحرف راستے ہیں۔ اور اگر الله چاہتا تو وہ سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ الله اپنے منصوبۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق، انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو میچ (manage) کر رہا ہے۔ خدا، انسان کو آزادی بھی دیے ہوئے ہے اور اسی کے ساتھ وہ اس کی نگرانی بھی کر رہا ہے کہ انسانی قافلہ بھٹک کر صراطِ مستقیم سے بہت دور نہ چلا جائے۔ تاریخ کے بارے میں اس خدائی اصول کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ — انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کی تنظیم کرنا: It is to manage history while maintaining human freedom. تاریخ اور تعبیرِ تاریخ تاریخ سادہ طور پر واقعہ نگاری (narration of events) کا نام ہے۔ تعبیرِ تاریخ (interpretation of history) کا تعلق فلسفۂ تاریخ سے ہے، یعنی اُن قوانین کو دریافت کرنا جو تاریخ کے عمل میں کام کر رہے ہیں۔ اِس سلسلے میں مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں، مگر یہ تمام نظریات محض انسانی قیاس پر مبنی ہیں۔ تاریخ کی صحیح تعبیر وہ ہے جو انسان کے بارے میں خالق کے نقشۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق ہو۔ قدیم زمانے میں بادشاہ کو تاریخ کا مرکزی کردار سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے تاریخ عملاً بادشاہوں کی تاریخ بن گئی۔ یورپ کی نشاة ثانیہ کے بعد دنیا میں جمہوریت کا دور آیا۔ اب تاریخ کا مرکزی کردار فرد کے بجائے سوسائٹی کو سمجھا جانے لگا۔ اب سماجی افکار کی روشنی میں تاریخ لکھی جانے لگی۔ اِس میں ایک نمایاں نام جرمن مفکر کارل مارکس (وفات 1883) کا ہے۔ مارکس نے تاریخ کا ایک نیا تصور پیش کیا جس کو تاریخی مادیت کہا جاتا ہے۔ یہ تصورِ تاریخ بنیادی طور پر یہ تھا کہ انسان کا شعور تاریخ کی صورت گری نہیں کرتا، بلکہ مادی حالات تاریخ کی صورت گری کرتے ہیں: The mode of production in material life determines the general character of the social, political, and spiritual process of human life.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page