تاریخ اور تعبیرِ تاریخ
Urdu book, p. 464
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کا ایک تصور وہ ہے جو نیشن (nation) پر مبنی ہے۔ کسی نیشن کی مختلف سرگرمیوں کے ریکارڈ کو اس کی تاریخ سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً انڈین نیشن کی تاریخ، جرمن نیشن کی تاریخ، وغیرہ۔ ایک اور تاریخی نظریہ وہ ہے جس کو برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (وفات 1975) نے پیش کیا۔ اُس نے اِس موضوع پر ایک مکمل کتاب 12 جلدوں میں لکھی جس کا نام یہ ہے: A Study of History ٹائن بی نے تاریخ کا یہ تصور پیش کیا کہ تاریخ، تہذیب کے ارتقائی مراحل کے ساتھ سفر کرتی ہے۔ تہذیبوں کے معمار ہی تاریخ کے معمار ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک زمانے میں رومی تہذیب نے تاریخ سازی کا رول ادا کیا۔ اِس کے بعد مسلم تہذیب، تاریخ ساز تہذیب کی حیثیت سے ابھری۔ اس کے بعد برٹش تہذیب کو تاریخ سازی کا یہ مقام ملا، وغیرہ۔ دوسرا تصور تاریخ وہ ہے جس کو مذہبی تاریخ کہا جاتا ہے۔ مذہبی تصور تاریخ کو علمی اعتبار سے، کوئی مستند درجہ نہیں ملا، حتیٰ کہ موجودہ زمانے میں اس کو بالکل ناقابل حوالہ سمجھ لیا گیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا کے مقالہ نگار (Patrick Lancaster Gardinar) نے اپنے مقالہ فلسفہ تاریخ (Philosophy of History) کے تحت لکھا ہے کہ ۔ مذہبی اور مابعد الطبیعی قیاسات کی روشنی میں، انسانی تقدیر کے معاملات کی تعبیر کا دور، جدید مورخین کے نزدیک، اب ختم ہو چکا ہے: The age of religious and metaphysical conjectures concerning the destiny of human affairs had, in their opinion, come to a close (EB. 8/962, 1974) یہ بات بلاشبہ بے بنیاد ہے ۔ یہ بات اُسی طرح غیر علمی ہے جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کا دور ختم ہوگیا (God is dead)، یا یہ کہ پیغمبر کی وحی صرف ایک شاعرانہ تجربہ (poetic experience) تھی، یا یہ کہ مذہب کی کوئی بنیاد نہیں، وہ صرف ایک سماجی ظاہر ہ (social phenomenon) ہے، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader