Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 468

By Maulana Wahiduddin Khan

7۔ جدید دور کو آج آف کمیونیکیشن کہا جاتا ہے۔ یہ آج در اصل موافقِ دعوت آج ہے۔ گلوبل کمیونیکیشن نے پہلی بار گلوبل دعوت کو ممکن بنا دیا ہے۔ 8۔ پچھلی ہزار سالہ تاریخ میں پہلی بار دعوت الی اللہ کا ایک نیا امکان پیدا ہوا ہے۔ اس امکان کو جو لوگ استعمال کریں گے، اُن کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 249)۔ اخوانِ رسول کا لفظ فضیلت کو نہیں، بلکہ رول کو بتاتا ہے۔ اصحابِ رسول وہ لوگ تھے جنھوں نے ساتویں صدی میں اُس وقت کے امکانات کو استعمال کیا۔ اخوانِ رسول وہ لوگ ہوں گے جو اکیسویں صدی کے امکانات کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کریں۔ مقصدِ تخلیق فلاسفہ اور مفکرین کے یہاں زیر بحث سوالات میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ تخلیق کی غایت اصلی (raison d'être) کیا ہے۔ سیکولر مفکرین نے اس کا جواب مختلف انداز سے دینے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً یہ کہ تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے خالق خود اپنی تکمیل چاہتا ہے۔ قرآن میں اس سوال کا جواب ایک آیت میں اس طرح دیا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی، میں نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ صحابی مفسر عبد اللہ بن عباس نے اس آیت کی تشریح اس طرح کی ہے کہ اس آیت میں ’لِيَعْبُدُونِ‘ سے مراد ’لِيَعْرِفُونِ‘ ہے، یعنی خدا کی عبادت کرنے سے مراد ہے خدا کی معرفت حاصل کرنا۔ خالق کی معرفت کوئی سادہ بات نہیں۔ انسان اپنے خالق کو براہ راست نہیں دیکھ سکتا، لیکن تخلیق کا مطالعہ اور صاحبِ تخلیق کی کتاب (قرآن) کا مطالعہ کر کے آدمی یقینی طور پر خالق کی عظمتوں کو دریافت کر سکتا ہے۔ تخلیق کی اعلی معنویت خالق کا اعلی تعارف ہے۔ تخلیق کے مطالعے سے آدمی خالق کا جو علم حاصل کرتا ہے، اُسی کا نام معرفت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page