Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 469

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی آدمی کو جب خالق کی یہ معرفت حاصل ہوتی ہے تو یہ اُس کے لیے سپر تھرل (super thrill) کا ایک تجربہ ہوتا ہے ۔ یہ تجربہ آدمی کی شخصیت میں ایک عظیم انقلاب پیدا کر دیتا ہے ۔ اِس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی سوچ خدا رخی سوچ بن جاتی ہے، آدمی کا کلام خدا رخی کلام بن جاتا ہے، آدمی کا سلوک خدا رخی سلوک بن جاتا ہے ۔ قرآن کے الفاظ میں، آدمی کی پوری زندگی خدا کے رنگ میں رنگ جاتی ہے (2:138) ۔ یہی معرفت مزید وسعت پا کر دعوت الی اللہ بن جاتی ہے ۔ دعوت الی اللہ کیا ہے ۔ وہ آدمی کی معرفت خدا کی توسیع یا اس کا خارجی ظہور ہے ۔ جو آدمی گہرائی کے ساتھ خدا کی معرفت حاصل کرے، اس کے اندر شدید طور پر یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس معرفت میں دوسروں کو حصے دار بنائے۔ اسی واقعے کا دوسرا نام دعوت الی اللہ ہے۔ خدا کی معرفت ایک فرد کے اندر متحقق ہوتی ہے، نہ کہ کسی مجموعے کے اندر۔ جب ایک بڑی تعداد خدا کے عارفوں پر مشتمل ہو جائے تو اُس وقت پورے مجموعے یا اس کی بڑی تعداد معرفت کی حامل بن جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام اصلاً فرد پر مبنی کام ہے، نہ کہ مجموعے پر مبنی کام ۔ دعوت الی اللہ کا نشانہ اصلاً کسی سسٹم یا کسی اجتماعی نظام کے وجود میں لانا نہیں ہے، بلکہ فرد فرد کو معرفتِ خداوندی کا حامل بنانا ہے ۔ اس کے بعد جو واقعات پیش آتے ہیں، وہ اصل نشانے کے بالواسطہ نتائج ہیں، نہ کہ اصل نشانہ۔ تاریخ کی با معنی تعبیر ایک بڑی انڈسٹری قائم کی جائے تو بظاہر اُس میں بہت سے اجزا اور بہت سی سرگرمیاں دکھائی دیں گی، لیکن انڈسٹری کا مقصودِ اصلی صرف ایک ہوگا، اور وہ ہے ۔ کوئی خاص پروڈکٹ (product) نکالنا، یہی پروڈکٹ انڈسٹری کا حقیقی جُز ہوگا اور بقیہ تمام چیزیں انڈسٹری کے اضافی اجزا قرار پائیں گے ۔ یہی وہ واحد اصول ہے جس پر انڈسٹری کی صحت کارکردگی کو جانچا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page