اظہارِ دین
Urdu book, p. 480
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ آدمی پیدائشی طور پر ایک معیار پسند مخلوق ہے ، مگر عملاً اس کو ایک غیر معیاری دنیا میں رہنا پڑتا ہے۔ اس حقیقت سے شعوری طور پر باخبر ہونا بہت ضروری ہے ۔ ورنہ یہ ہوگا کہ اس کا معیار پسند ذہن دنیا کے غیر معیاری تجربات کی بنا پر ردعمل کا شکار ہوتا رہے گا اور نتیجہ تازہ مثبت ذہن سے محروم ہو جائے گا ، اور مثبت ذہن سے محروم ہونا ہر چیز سے محروم ہونے کے ہم معنی ہے۔ آدمی کو شعوری طور پر یہ جاننا چاہیے کہ اس کا معیار پسند ذہن اس لیے ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا کا طالب بنے ، نہ یہ کہ وہ اسی موجودہ دنیا میں جنتی زندگی یا جنتی معاشرہ کو حاصل کرنے لگے۔ موجودہ دنیا جنتی انسان بنانے کے لیے ہے، نہ کہ جنتی معاشرہ بنانے کے لیے ۔ جو آدمی شعوری طور پر اس راز کو جان لے کہ موجودہ دنیا میں اس کو اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے وہ کامیاب ہوا۔ اور جو آدمی موجودہ دنیا ہی کو جنتی دنیا بنانے کی کوشش میں لگ جائے ، وہ ناکام و نامراد رہا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں جنتی شخصیت بننا تو ممکن ہے، مگر جنتی نظام بننا ممکن نہیں۔ تاریخ کی خدائی تنظیم قرآن میں تاریخ کا جو تصور پیش کیا گیا ہے ، اس کے مطابق ، انسانی تاریخ آدم سے شروع ہوتی ہے، جو کہ پہلے انسان (first man) تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اور ان کی بیوی حوا کو پیدا کر کے اُنھیں جنت میں آباد کیا۔ خدا کی طرف سے اُن کو صرف ایک ہدایت دی گئی تھی، وہ یہ کہ : اے آدم، تم اور تمھاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور اس سے کھاؤ آسودگی کے ساتھ ، جہاں سے چاہو۔ اور اس درخت کے قریب مت جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے “ (2:35) ۔ آدم کے ساتھ ان کی بیوی کو پیدا کرنے میں اس بات کا اشارہ تھا کہ انسان کی پیدائش سے اللہ تعالیٰ کو جو چیز مطلوب ہے ، وہ صرف ایک انسانی فرد نہیں ، بلکہ ایک انسانی نسل ہے۔ انسان کے لیے جنت کا مستحق ہونے کی شرط صرف ایک تھی ، یہ کہ وہ خود انضباطی کردار (self-disciplined character ) کا پابند رہے ، وہ آزادی کا غلط استعمال نہ کرے۔ مگر آدم اور حوا اس شرط پر پورے نہیں اترے۔ اس لیے انھیں جنت سے نکال کر سیارہ ارض پر آباد کر دیا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader