تعبیر تاریخ کی مثالیں
Urdu book, p. 479
By Maulana Wahiduddin Khan
استثنائی افراد خالق کو مطلوب ہیں۔ یہی مطلب ہے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مطلوب کے مطابق، تاریخ کو ہینڈل (manage) کرنے کا۔ خالقِ کائنات کی یہ اسکیم قرآن کے مطالعے سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی سورۃ النساء کی دو آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: "اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے، یعنی نبی اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ کا علم کافی ہے" (70-69:4)۔ قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سے منتخب افراد ہوں گے جن کے مجموعے سے جنت کا معاشرہ وجود میں آئے گا۔ ان افراد کو بتانے کے لیے یہاں چار الفاظ استعمال کیے گئے ہیں — نبی، صدیق، شاہد، صالح۔ نبی سے مراد صاحب وحی انسان (revealed person) ہے۔ صدیق سے مراد وہ انسان ہے جو حق کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ وابستہ کرے کہ اس کو پیغمبر کے ساتھ مزاجی مناسبت حاصل ہوجائے۔ شہید یا شاہد سے مراد وہ انسان ہے جس کی زندگی میں حق اتنا زیادہ متشکل ہوجائے کہ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ لوگوں کے درمیان حق کا گواہ بن جائے۔ صالح سے مراد وہ انسان ہے جس کی زندگی میں فکر و عمل کی مطابقت کامل درجے میں پائی جائے۔ بنیادی طور پر یہی چار قسم کے افراد ہیں جن کے مجموعے سے وہ معیاری معاشرہ تشکیل پائے گا جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ ان افراد کا تعلق کسی ایک زمانے یا کسی ایک معاشرے سے نہیں ہوگا، بلکہ وہ مختلف غیر معیاری معاشروں کے منتخب کیے ہوئے افراد ہوں گے۔ خالق کی اس اسکیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس دنیا میں صرف انفرادی کامیابی (individual achievement) ممکن ہے۔ جہاں تک اجتماعی کامیابی (social achievement) کا تعلق ہے، وہ امتحان کی اس دنیا میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔ موجودہ دنیا میں درست روش پر قائم رہنے کے لیے مثبت ذہن ضروری ہے۔ مگر مثبت ذہن کے ساتھ جینا کوئی سادہ بات نہیں۔ مثبت ذہن کے ساتھ جینے کے لیے آدمی کو ایک لازمی امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ ہے دو متضادر رجحانات کو ہینڈل (manage) کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader