Urdu book · اظہارِ دین

نئی منصوبہ بندی

Urdu book, p. 490

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا جائے جو مذھب اور سیاسی اقتدار کو ایک دوسرے سے الگ کر دے، تا کہ انسانی تاریخ اپنے صحیح رخ پر سفر کر سکے، بغیر اس کے کہ انسانی آزادی کو منسوخ کیا گیا ہو۔ اس نئے منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ انسانوں کا مجموعہ خواہ آزادی کا صحیح استعمال نہ کرنے کی بنا پر غلط رخ پر چلتا رہے، لیکن پھر بھی افراد کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق، صحیح مذہب کو اختیار کر سکیں۔ اس نئے منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعے ہوا۔ حضرت ابراہیم کا مقامِ عمل قدیم عراق تھا۔ یہاں اُس وقت مشرکانہ کلچر کا غلبہ تھا۔ حضرت ابراہیم نے لمبی مدت تک اُنھیں توحید کی دعوت دی، مگر وہ لوگ اپنی کنڈیشنگ کی بنا پر توحید کی فکر کو قبول نہ کر سکے، یہاں تک کہ اُنھوں نے حضرت ابراہیم کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اِس صورتِ حال کا تقاضا ہوا کہ حضرت ابراہیم اپنے مقامِ عمل کو بدل دیں۔ چنانچہ وہ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے فرزند اسماعیل کو لے کر مکہ کے قریب آگئے جو اُس وقت صرف ایک ویران صحرا کی حیثیت رکھتا تھا۔ اِس صحرائی ماحول میں توالدوتناسل کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں وہ گروہ وجود میں آیا جس کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے۔ صحرائی ڈی کنڈیشنگ کے ماحول میں ایک نئی قوم بنانے کا یہ عمل تقریباً ڈھائی ہزار سال تک جاری رہا۔ پھر بنواسماعیل کے اِسی گروہ میں پیغمبرِ اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب پیدا ہوئے۔ پیغمبرِ اسلام کی 23 سالہ جدوجہد کے نتیجے میں یہ ہوا کہ بنو اسماعیل کے صالح افراد بڑی تعداد میں آپ کے گرد جمع ہو گئے، یہاں تک کہ وہ گروہ بنا جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول کا زمانہ عمل ساتویں صدی عیسوی ہے۔ اُن کے ذریعے منصوبہ خداوندی کے مختلف کام انجام پائے۔ مثلاً کتاب الہی (قرآن) کا محفوظ ہو جانا۔ دین خداوندی کا ایک عملی ماڈل قائم ہو جانا۔ دین خداوندی جو پچھلے انبیاء کے زمانے میں زیادہ تر فکری مرحلے تک محدود تھا، وہ اب انقلابی مرحلے میں پہنچ گیا۔ اِن تبدیلیوں کی بنا پر یہ ممکن ہو گیا کہ پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم کر دیا جائے ۔ تاریخ میں انفرادی پیغمبر کا دور ختم ہو جائے اور اجتماعی امت کا دور شروع ہو جائے، وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page