نئی منصوبہ بندی
Urdu book, p. 491
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ کی خصوصی نصرت سے، اصحابِ رسول کے ذریعے جو انقلابی کام انجام پایا، اُس کا ایک خاص پہلو یہ تھا جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39)_ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ اس آیت میں 'فتنہ' سے مراد وہ جارحانہ نظام ہے جو قدیم طرز کی شہنشاہیت (imperialism) کی سرپرستی میں قائم تھا۔ اس شہنشاہی نظام نے ایک ایسا نظام قائم کر رکھا تھا جو خدا کے تخلیقی منصوبے کی تنسیخ کے ہم معنی تھا، یعنی آزادیِ فکر کا خاتمہ۔ اس لیے خدا کو یہ مطلوب تھا کہ اس جبری شہنشاہی نظام کو توڑ دیا جائے، تا کہ انسانی قافلے کے سفر میں کوئی مصنوعی رکاوٹ حائل نہ رہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں اس جبری شہنشاہیت کے دو بڑے نمائندے تھے— ایک ساسانی ایمپائر (Sassanid Empire) اور دوسرے، رومن ایمپائر یا بازنتینی ایمپائر (Byzantine Empire)_ یہ دونوں ایمپائر اتنا زیادہ طاقت ور تھے کہ اصحابِ رسول کے ذریعے ان کو مغلوب کرنا عملاً ناممکن تھا۔ عین اُس زمانے میں ایک معاون واقعہ پیش آیا، یعنی دونوں سیاسی چٹانوں کے درمیان باہمی ٹکراؤ۔ چنانچہ دونوں ایمپائر ایک دوسرے سے لڑ گئے۔ پہلے ساسانی ایمپائر نے رومن ایمپائر کو تباہ کیا، اس کے بعد رومن ایمپائر نے ساسانی ایمپائر کا زور توڑ دیا۔ اس کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ خدائی منصوبے کے مطابق، اصحابِ رسول اُن کو مغلوب کر سکیں۔ یہ تاریخی واقعہ پیشگی طور پر منصوبہء الہی میں مقدر کر دیا گیا تھا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کی طرف بائبل میں پیشین گوئی کے طور پر ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا تھا— اُس نے نگاہ کی اور قو میں پراگندہ ہوگئیں ۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے ۔ قدیم ٹیلے جھک گئے (3:6, Habakkuk)_ یہ ساتویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ اہل اسلام کو وہ سیاسی غلبہ حاصل ہو گیا جو اس سے پہلے صرف اُن سیاسی نظاموں کو حاصل تھا جو مشرکانہ کلچر کی سرپرستی کرتے تھے۔ مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کے تحت تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا۔ اس عمل کا نشانہ تھا— فطرت (nature) کو موضوعِ تحقیق (object of investigation) بنانا، جو آب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader