کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
may call me an agnostic, but I do not share the crusading spirit of the professional atheist whose fervour is mostly due to a painful act of liberation from the fetters of religious indoctrination received in youth. (The Times of India, New Delhi, May 18, 2012) عقیدہ خدا کے بارے میں آئن اسٹائن کا جو موقف ہے، وہی موقف تقریباً تمام سائنس دانوں کا ہے، خدا سائنسی مطالعہ (scientific study) کا موضوع نہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ سائنس داں خدا کا انکار نہیں کرتے، وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ لا ادریہ (agnostic) بتاتے ہیں۔ یعنی ایک ایسا موقف جب کہ انسان نہ انکار کرنے کی پوزیشن میں ہو اور نہ اقرار کرنے کی پوزیشن میں۔ یہ صحیح ہے کہ سائنس کے مطالعے کا موضوع مادی دنیا (material world) ہے، مگر مادی دنیا کیا ہے، وہ خالق کی تخلیق (creation) ہے، اس لیے سائنس کا مطالعہ بالواسطہ طور پر خالق کی تخلیق کا مطالعہ بن جاتا ہے۔ ایک سائنس داں خالق کے عقیدے کا انکار کر سکتا ہے، لیکن تخلیقات میں خالق کی جو نشانیاں (signs) موجود ہیں، اُن کا انکار ممکن نہیں۔ اصل یہ ہے کہ سائنس نے جس مادی دنیا (physical world) کو دریافت کیا ہے، اس میں حیرت انگیز طور پر ایسی حقیقتیں پائی جاتی ہیں جو اپنی نوعیت میں غیر مادی ہیں۔ مثلاً معنویت، ڈیزائن، ذہانت اور با مقصد پلاننگ، وغیرہ۔ مادی دنیا کی نوعیت کے بارے میں یہ دریافت گویا خالق کے وجود کی بالواسطہ شہادت ہے۔ خدا کے وجود کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے ایک سائنسی طریقہ یہاں قابلِ انطْباق (applicable) ہے، وہ یہ کہ دیکھا جائے کہ سائنس کی دریافت کردہ دنیا کس نظریے کی تصدیق کر رہی ہے، انکارِ خدا کے نظریے کی تصدیق یا اقرارِ خدا کے نظریے کی تصدیق۔ اس اصولِ استدلال کو سائنس میں ویری فلی کیشن ازم (verificationism) کہا جاتا ہے۔ سائنس میں استدلال کا ایک اصول ہے، جس کو اصولِ مطابقت (principle of

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader