Urdu book · اظہارِ دین

اسلام کی تاریخ

Urdu book, p. 501

By Maulana Wahiduddin Khan

ادارتی رول کی ایک معلوم تاریخی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے۔ انھوں نے تقریباً چار ہزار سال پہلے مکہ میں کعبہ (بیت اللہ) کی تعمیر کی۔ یہ کعبہ گویا کہ مذہب توحید کا ایک ادارتی مرکز (institutional centre) ہے۔ کعبہ سارے عالم کے موحدین کا مرکز ہے اور قیامت تک وہ موحدین کا مرکز بنا رہے گا۔ خدا کے دین کی لمبی تاریخ میں پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم (وفات 632ء) کا رول ایک انقلابی رول ہے۔ آپ نے تاریخ انسانی کو ایک نئے دور میں داخل کیا۔ اس انقلابی عمل میں صحابہ اور تابعین کا رول مددگار رول (supporting role) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس انقلاب کے اثرات تاریخ میں آج تک جاری ہیں اور قیامت تک جاری رہیں گے۔ علمی رول یا اکیڈمک رول کی حیثیت سے محدثین کا نام سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ محدثین نے یہ کیا کہ انھوں نے دینِ خداوندی کے دوسرے مستند ماخذِ حدیث رسول کو اس طرح مدوّن کر دیا کہ وہ بعد کی تمام نسلوں کے لیے خدا کے رسول کی رہنمائی کو جاننے کا قابلِ اعتبار ماخذ بنے۔ ابتدائی دور کے ان محدثین کا زمانہ نویں صدی عیسوی ہے۔ انفرادی رول کی حیثیت سے نمایاں نام اموی خلیفہ عمر بن عبد العزيز (وفات 720ء) کا ہے۔ وہ 717 عیسوی میں بنوامیہ کے خلیفہ منتخب ہوئے جن کا دارالسلطنت دمشق تھا۔ ان کی خلافت کی مدت صرف ڈھائی سال ہے۔ انھوں نے اس مختصر مدت میں ایک بہت بڑا تجدیدی کام کیا، مگر اُن کا یہ رول ایک انفرادی رول تھا جو اُن کی زندگی تک باقی رہا اور اُن کی وفات پر عملاً ختم ہو گیا۔ مذکورہ تاریخی ماڈل میں ابتدائی تین ماڈل صرف ایک بار کے لیے تھے۔ بعد کی نسلوں کے لیے یہ رہنمائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں، لیکن اب ان کا اعادہ ممکن نہیں۔ البتہ چوتھا رول (انفرادی رول) بدستور جاری ہے۔ بعد کی نسلوں میں بھی یہ ممکن ہے کہ اُن کے درمیان کوئی فرد اٹھے اور اپنے حالات کی نسبت سے کوئی مطلوب انفرادی رول ادا کرے۔ مگر اصلاً یہ ایک شخص کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page