Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 500

By Maulana Wahiduddin Khan

رَبُّ الْعَالَمِيْنَ ) قرآن کی سورۃ الزمر میں آیا ہے ( 39:75)۔ سورۃ الفاتحہ میں حمدِ خداوندی کے اُس درجے کا بیان تھا جو کہ دنیا میں کلماتِ اللہ کی ابتدائی انفولڈنگ کے وقت ادا ہوا۔ اور سورۃ الزمر میں اُس حمدِ خداوندی کا ذکر ہے جو کہ آخرت میں کلماتِ اللہ کی انتہائی انفولڈنگ کے وقت اہل جنت کی زبان سے ادا ہوگا۔ موجودہ دنیا وہ جگہ تھی جہاں انسان کو تمام چیزیں بقدر ضرورت دی گئی تھیں (14:34)۔ آخرت کی جنت وہ جگہ ہوگی جہاں اس کے باشندوں کو تمام اعلیٰ نعمتیں درجہ اشتہا (41:31) میں حاصل ہوں گی۔ آخرت کی جنت میں یہ تمام نعمتیں اس کے باشندوں کو خدائی میزبانی (divine hospitality) کے طور پر حاصل ہوں گی۔ آخرت میں اہل جنت کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ یہ ہوگا کہ وہ لامحدود کلماتِ اللہ کی بقیہ انفولڈنگ کریں اور ایک برتر تہذیب (super civilization) کو وجود میں لائیں۔ کلماتِ اللہ کی انفولڈنگ کا یہ کام ابد تک جاری رہے گا۔ اس لیے اہل جنت کا دورِ مسرت بھی ابد تک جاری رہے گا، وہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ اسلام کی تاریخ خدا نے انسان کو مکمل آزادی دی ہے۔ اسی کے ساتھ خدا عام تاریخ کو نیز اسلامی تاریخ کو مینج (manage) کر رہا ہے، تاکہ تخلیق کا خدائی مقصدیقینی طور پر حاصل ہوتا رہے۔ خدائی سنت کے مطابق، اس مینج مینٹ کی تکمیل ہمیشہ کچھ افراد کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس خدائی مینج مینٹ کی چار بڑی صورتیں ہیں: 1۔ ادارتی رول (institutional role) 2۔ انقلابی رول (revolutionary role) 3۔ علمی رول (academic role) 4۔ انفرادی رول (individual role)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page