خلاصۂ کلام
Urdu book, p. 509
By Maulana Wahiduddin Khan
خلاصۂ کلام مورخین کے یہاں مختلف قسم کے تاریخی تصورات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً خاندانی بادشاہت کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، قوموں کے عروج و زوال کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، مختلف تہذیبوں (civilizations) کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، وغیرہ۔ مگر خدائی تصورِ تاریخ (divine concept of history) اس سے مختلف ہے۔ خدائی تصورِ تاریخ کیا ہے، اس کو قرآن کے مطالعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ خدائی تصورِ تاریخ کے مطابق، اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ اس کے بعد انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ توالد و تناسل کے ذریعے اپنی تعداد بڑھائے۔ اس کی نسلیں کرۂ ارض (planet earth) کے مختلف حصوں میں آباد ہوں۔ اللہ نے انسان کو مکمل آزادی عطا کی۔ اللہ نے انسان کو یہ موقع دیا کہ خواہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اس کا غلط استعمال کرے، وہ زمین میں اصلاح کرے یا وہ زمین میں فساد برپا کرے، وہ اپنی زندگی کو عدل پر قائم کرے یا بے انصافی پر قائم کرے، حتی کہ انسان کو یہ بھی آزادی حاصل ہے کہ چاہے تو وہ اللہ کا اقرار کرے اور چاہے تو وہ اللہ کا انکار کر کے سرکش بن جائے۔ اللہ کے منصوبے کے مطابق، آزادی کی یہ صورتِ حال قیامت تک جاری رہے گی۔ اس پورے تاریخی عمل کے دوران اللہ کا مطلوب صرف ایک ہے، اور وہ ہے صالح افراد کا انتخاب۔ یہ افراد وہ ہیں جو ہر قسم کے ہنگاموں کے باوجود اپنے آپ کو آزادی کے صحیح استعمال پر قائم رکھیں، جو اپنی ذہنی قوتوں کو استعمال کرتے ہوئے اور نبیوں کی ہدایت سے استفادہ کرتے ہوئے اللہ کو دریافت کریں اور اپنی زندگی کو ہدایتِ الہی کے مطابق بنائیں ۔ اسی قسم کے صالح افراد اللہ کو مطلوب ہیں۔ اللہ اپنے خصوصی انتظام کے تحت پوری تاریخ میں مسلسل طور پر ایسے ہی صالح افراد کا انتخاب کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader