قرآن کا تصورِ تاریخ
Urdu book, p. 508
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ممکن ہو گیا کہ تاریخ بشری کے اس باب کو زیادہ تفصیل کے ساتھ مرتب کیا جائے اور اس قرآن کی تاریخی تفہیم کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس قسم کا ایک اور تاریخی حوالہ وہ ہے جو پیغمبر موسیٰ کے دور تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔ تقریباً تین ہزار سال پہلے مصر میں یہ واقعہ ہوا کہ پیغمبر موسیٰ کے معاصر بادشاہ فرعون کو خدا نے بحر قلزم (Red Sea) میں غرق کر دیا۔ اس کے بارے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے کہ بوقت غرق اللہ نے فرمایا: فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اَيَّةً (10:92)۔ یعنی، آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔ فرعون کا یہ واقعہ بھی ایک پورے دور تاریخ کی علامت ہے۔ مگر ساتویں صدی عیسوی میں جب کہ قرآن نازل ہوا، یہ بات کسی کو معلوم نہ تھی کہ فرعون کی لاش کہاں محفوظ ہے۔ انیسویں صدی کے آخر میں یورپ کے کچھ مستشرقین نے دریافت کیا کہ مذکورہ فرعون کی لاش محفوظ حالت میں اہرام مصر میں موجود ہے۔ اب یہ لاش اہرامِ مصر سے نکال کر قاہرہ کے میوزیم میں رکھ دی گئی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل ڈاکٹر مورس بکائی کی کتاب (The Bible, The Quran and Science) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ قرآن نے انسانی تاریخ کا جو تصور دیا ہے، اس کے مطابق، ایسے علامتی واقعات قرآن میں موجود ہیں جن کو مزید معلوم تاریخی کے اضافے سے از اول تا آخر مدون کیا جا سکتا ہے۔ قرآن میں پچھلی تاریخ کے بارے میں علامتی واقعات ملتے ہیں اور بعد کی تاریخ کے بارے میں ایسی پیشین گوئیاں موجود ہیں جو قیامت تک کی پوری تاریخ انسانی کا احاطہ کر رہی ہیں۔ قرآن میں موجود ان تاریخی حوالوں کی حیثیت صرف عنوانات کی ہے۔ ان عنوانات کی روشنی میں اگر دیگر حاصل شدہ معلومات کو شامل کیا جائے، تو اس کے ذریعے قرآن کے تصور تاریخ کے مطابق، انسانی تاریخ کی پوری تصویر بنائی جاسکتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader