Urdu book · اظہارِ دین

ٹیم اسپرٹ

Urdu book, p. 515

By Maulana Wahiduddin Khan

والے۔ اس حدیث رسول میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس میں یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کی ذات سے محبت کرنے والے، بلکہ یہ فرمایا کہ اللہ کے لیے آپس میں محبت کرنے والے۔ گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ خالص اللہ کے کاز (cause) کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے۔ اس معاملے کو مزید واضح کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے مشن کی خاطر صرف اللہ کے لیے باہم مجتمع ہو جائیں، جن کی ٹیم اسپورٹ اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ ٹیم کا ہر فرد اُن کے لیے ایک محبوب ساتھی بن جائے۔ دعوت کا عالمی نشانہ صرف ٹیم ورک کے ذریعے پورا کیا جاسکتا ہے اور کسی مادی انٹرسٹ کے بغیر ٹیم ورک ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ٹیم ورک کا مطلب اجتماعی ورک ہے اور اجتماعی زندگی میں لازماً شکایت اور اختلاف کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں صرف اعلیٰ درجے کی محبت الہی یا تعلق باللہ ہی آدمی کو مشن سے وابستہ رکھ سکتا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں ایک جنگ پیش آئی جس کو تاریخ میں جنگ یرموک (13 ہجری) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں اہلِ ایمان کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اس جنگ میں خالد بن الولید سپہ سالار تھے۔ جنگ کے آخری مرحلے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق نے کسی وجہ سے خالد بن الولید کو سپہ سالاری کے منصب سے ہٹا دیا اور ان کو عام سپاہی کا درجہ دے دیا۔ فوج کے کچھ لوگ خالد بن الولید سے ملے اور اس واقعے پر اپنی عدم رضامندی کا اظہار کیا۔ خالد بن الولید نے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: اِنّی لَا اُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ عُمَرَ، وَلَكِنْ اُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ رَبِّ عُمَرَ (یعنی میں عمر کی راہ میں جنگ نہیں کرتا، بلکہ میں عمر کے رب کی راہ میں جنگ کرتا ہوں)۔ عالمی دعوتی مشن بہت بڑا دعوتی مشن ہے۔ اس قسم کا مشن صرف ایسے لوگوں کے ذریعے کامیابی کے ساتھ انجام پاسکتا ہے جو پورے معنی میں ٹیم اسپورٹ کے ساتھ اکھٹا ہوئے ہوں۔ دعوتی مشن ایک ایسا مشن ہے جس میں کسی بھی قسم کا مادی یا ذاتی انٹرسٹ شامل نہیں۔ دعوتی ٹیم کی کامیابی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page