اظہارِ دین
Urdu book, p. 516
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد کے اندر مادی انٹرسٹ کا کوئی اعلیٰ بدل موجود ہو۔ یہ بدل صرف ایک ہے اور وہ ہے اللہ کے ساتھ غیر متزلزل محبت۔ اللہ سے یہی گہرا تعلق اس بات کا ضامن ہے کہ ٹیم کے افراد بنیان مرصوص (الصف، 61: 4) کی طرح باہم جڑے رہیں۔ کوئی بھی شکایت اُن کی ٹیم اسپرٹ میں خلل ڈالنے والی نہ ہو۔ اس معاملے کی ایک مثبت مثال وہ ہے جو خالد بن الولید کے حوالے سے اوپر بیان کی گئی ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ایک متقابل مثال یہاں درج کی جاتی ہے۔ یہ مثال سعد بن عبادہ انصاری کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔ سعد بن عبادہ انصاری کو اس پر اختلاف ہوا۔ وہ مدینے کے بڑے سرداروں سے تھے۔ ان کی شکایت ایک سیاسی شکایت تھی۔ یہ شکایت اتنی بڑھی کہ انھوں نے حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت پر بیعت نہیں کی۔ انھوں نے کبھی اپنی رائے سے رجوع نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ اصحاب رسول کی جماعت سے الگ ہو کر شام چلے گئے اور وہیں 14 ہجری میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ٹیم ورک کے اندر لازمی طور پر آپس میں شکایت اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ٹیم ورک کی کامیابی کی شرط صرف یہ ہے کہ ٹیم کے افراد کے اندر یہ ناقابلِ شکست عزم پایا جاتا ہو کہ وہ کسی بھی عذر کو عذر نہیں بنائیں گے، وہ اللہ کی خاطر ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے ساتھ جڑے رہیں گے۔ اللہ کے کاز کے لیے آپس میں محبت کرنے والے شکایت کا کوئی منفی اثر نہیں لیں گے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کے اندر یہ صفت نہ ہو، وہ شکایت سے بددل ہو کر ٹیم سے دور ہو جائیں گے۔ دینِ خداوندی کے دو تقاضے اسلام کا اصل خارجی نشانہ دعوت الی اللہ ہے۔ اہلِ اسلام کا یہی ابدی مشن ہے کہ وہ پُراَمَن طور پر اللہ کے دین کا پیغام ہر دور کے انسانوں تک پہنچاتے رہیں۔ اس دعوتی مشن کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے — تائیدی انفراسٹرکچر (supporting infrastructure) اور توجیہی لٹریچر (explanatory literature)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader