کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کی ایک پیداوار ہے: The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses. آئن اسٹائن نے جس چیز کو "انسانی کمزوری" بتایا ہے، وہ کمزوری نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی ایک اعلیٰ خصوصیت ہے۔ اس خصوصیت کو درست طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان ایک توجیہ طلب حیوان (explanation-seeking animal) ہے۔ انسان کی یہی خصوصیت تمام علمی ترقیوں کی بنیاد ہے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر انسان چیزوں کی توجیہ تلاش کرتا ہے اور پھر وہ بڑی بڑی ترقیوں تک پہنچتا ہے۔ انسان کے اندر اگر یہ خصوصیت نہ ہوتی تو انسانی تہذیب (human civilization) پوری کی پوری غیر دریافت شدہ حالت میں پڑی رہتی۔ خود آئن اسٹائن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اپنی عمر کے آخری 30 سال کے دوران وہ ایک سوال کا سائنسی جواب پانے کی کوشش کرتا رہا، مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ سوال آئن اسٹائن کے الفاظ میں، یونی فائیڈ فیلڈ تھیوری (unified field theory) کی دریافت ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ سوال اتنا زیادہ اہم ہے کہ آج وہ تمام نظریاتی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب اس سوال کو عام طور پر تھیوری آف ایوری تھنگ (Theory of Everything) کہا جاتا ہے۔ یہ تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کیا ہے۔ یہ دراصل ایک ایسا ریاضیاتی فارمولا دریافت کرنا ہے جو تمام کائناتی مظاہر کی سائنسی توجیہہ کر سکے۔ تھیوری آف ایوری تھنگ کا مطلب ہے: Theory that explains everything. ایک سائنسی ادارہ (European Organization for Nuclear Research) کے تحت سوئٹزر لینڈ میں ایک پروجیکٹ قائم کیا گیا۔ اس کا نام یہ تھا— لارج ہیڈرون کولائڈر (Large Hadron Collider) ۔ یہ پروجیکٹ 1998 میں قائم کیا گیا۔ اس پروجیکٹ پر ایک سو ملین ڈالر خرچ ہوئے۔ اس میں دنیا کے ایک سو ملک اور دس ہزار سائنس دانوں اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader