کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
انجینئروں کا تعاون شامل تھا۔ اگرچہ یہ پروجیکٹ کامیاب نہ ہوسکا، تاہم اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ ’ تھیوری آف ایوری تھنگ‘ کو دریافت کیا جائے۔ ’تھیوری آف ایوری تھنگ‘، یا زیادہ درست طور پر، ایکسپینیشن آف ایوری تھنگ کی تلاش پر تقریباً 90 سال گزر چکے ہیں، مگر اس معاملے میں سائنس دانوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مظاہرِ کائنات کی توجیبہ خدا کے وجود کو مان کر حاصل ہوتی ہے۔ کوئی ریاضیاتی فارمولا کبھی اس کا جواب نہیں بن سکتا۔ ریاضیاتی فارمولے میں اس سوال کا جواب تلاش کرنا ایسا ہی ہے جیسے پیاس کو بجھانے کے لیے پانی کے سوا کسی اور چیز کو اس کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرنا۔ سائنس اور عقیدۂ خدا 1927 میں بیلجیم کے ایک سائنس داں جار جز لیمسٹری (Georges Lemaitre) نے بگ بینگ کا نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے پر مزید تحقیق ہوتی رہی، یہاں تک کہ اس کی حیثیت ایک مسلّمہ واقعہ کی ہوگئی۔ آخرکار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح پائی جاتی ہیں ۔ یہ بگ بینگ کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں۔ ان لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جوئیل پرائمیک (Joel Primack) نے کہا تھا کہ یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں: The ripples are no less than the handwriting of God. (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب ’عظمتِ اسلام‘، صفحہ 33) جارج اسموٹ 1945 میں پیدا ہوا۔ وہ ایک امریکی سائنس داں ہے۔ اس نے 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہ انعام اُن کو ’کاسمک بیگ گراؤنڈا ایکسپلورر‘ کے لیے کام کرنے پر دیا گیا۔ 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں لہر دار سطحیں پائی جاتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader