زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 532
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے ایسا ہوا کہ بعد کے دور میں پیدا ہونے والے لٹریچر میں دعوتِ الی اللہ کا باب حذف ہوگیا۔ بعد کے دور میں جب کہ مسلمانوں کا پولٹکل ایمپائر قائم ہوا، اُس وقت مسلمانوں میں عام طور پر سیاسی طرزِ فکر پیدا ہوگیا۔ اِس سیاسی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد کے مسلمانوں میں جہاد کے نام پر قتال (جنگ) کا تصور غالب آگیا، حتیٰ کہ قتال اُن کے لیے مذہبی عقیدے کا جز بن گیا، جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتال کو صرف ضرورتِ شدیدہ (law of necessity) کے طور پر اختیار کیا گیا تھا۔ بعد کے دور میں مسلمانوں کو جو دبدبہ حاصل ہوا، اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر عام طور پر فخر (pride) کا ذہن پیدا ہوگیا۔ وہ دوسروں کے مقابلے میں، اپنے آپ کو برتر سمجھنے لگے ۔ اِسی ذہن کا یہ نتیجہ تھا کہ انھوں نے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں کو ’دارالاسلام‘ اور دوسروں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو ’دار الكفر‘ کہنا شروع کر دیا، حالانکہ قرآن کے مطابق، تمام دنیا یکساں طور پر انسان کی حیثیت رکھتی تھی۔ دار الكفر اور دار الاسلام کی اصطلاحیں سرتا سر مبتدعانہ اصطلاحیں ہیں جو بعد کے دور میں وضع کی گئیں۔ اِسی صورت حال کا یہ نتیجہ تھا کہ بعد کے زمانے میں اسلام کو صرف احکام اور قوانین کا ایک مجموعہ سمجھ لیا گیا، اِسی ذہن کا نتیجہ تھا کہ علما کے درمیان علم فقہ کو غلبہ حاصل ہوگیا اور قرآن اور حدیث عملاً فقہ کے تابع قرار پائے۔ دورِ زوال کا یہ بھی ایک ظاہرہ ہے کہ دین میں اسپرٹ (spirit) کی اہمیت گم ہو جاتی ہے اور ساری اہمیت فارم (form) کو حاصل ہو جاتی ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دین میں ساری بحثیں فنی اور قانونی پہلوؤں پر مرتکز ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک شدید تر خرابی پیدا ہو جاتی ہے، یعنی بہت سے فرقوں کا وجود میں آنا۔ یہاں پہنچ کر ملتِ واحدہ، ملتِ متفرقہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ بعد کے دور میں ملتِ مسلمہ کے درمیان یہ تمام خرابیاں کامل طور پر پیش آئیں ۔ ان تمام خرابیوں کا سبب وہی چیز ہے جس کو مذکورہ حدیث میں ’متناۃ‘ کہا گیا ہے، یعنی ملت کے دورِ زوال میں پیدا ہونے والا لٹریچر۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے تمام فکری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader