زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 533
By Maulana Wahiduddin Khan
مسائل براہ راست طور پر اسی صورت حال کا نتیجہ ہیں۔ اب اس صورت حال کا حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ قرون مشہود لہا بالخیر کے بعد مسلمانوں نے عربی زبان میں بطور خود جو لٹریچر تیار کیا، اُن کتابوں کو اب مسلمانوں کے کلاسکل لٹریچر (classical literature) کا درجہ دے دیا جائے۔ اب دوبارہ کھلے ذہن کے تحت قرآن اور سنت کا مطالعہ کیا جائے اور پھر ایسا لٹریچر تیار کیا جائے جو جدید ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ بعد کے پیدا شدہ لٹریچر کی تاریخی حیثیت ہمیشہ باقی رہے گی، لیکن جہاں تک ماخذ کی بات ہے، اسلام میں مستند ماخذ کی حیثیت ہمیشہ قرآن اور سنت کو حاصل رہے گی۔ ایک ’’روشن خیال‘‘ مسلمان نے ایک بار لکھا تھا کہ ــ آج قرآن کو دوبارہ نازل ہونا: Quran has to be re-revealed today. یہ ایک صحیح بات ہے جس کو غلط الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ آج ہم کو نئے قرآن کی ضرورت نہیں، ضرورت صرف یہ ہے کہ اسلوب عصر میں قرآن کی تبیین کی جائے۔ چنانچہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ: Quran has to be re-defined today. قرآن کی تمام تعلیمات ابدی ہیں تاہم اسلوب کلام کا تعلق مخاطب گروہ سے ہے، اس لیے اسلوب کلام ہر دور میں بدلتا رہتا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ قرآن کی ابدی تعلیمات کو اسلوب عصر میں اس طرح بیان کیا جائے کہ وہ آج کے لوگوں کے لیے قابل فہم بن سکیں۔ ملت مسلمہ کا کیس ہجری کیلنڈر کے لحاظ سے آج محرم 1434 کی پہلی تاریخ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت کی تھی، اُس پر اب 1433 سال گزر چکے ہیں۔ آپ کے زمانے میں جس ملت مسلمہ کی تشکیل ہوئی تھی، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ اب ختم ہو چکی ہے۔ آج جس کو ہم ملت مسلمہ کہتے ہیں، وہ ملت کی بعد کی نسلیں ہیں جو مختلف حالات سے گزرتے ہوئے اکیسویں صدی عیسوی میں داخل ہوئی ہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ ہر امت اپنے بعد کے دور میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader