Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 537

By Maulana Wahiduddin Khan

موجود ہے، اب صرف یہ ضرورت ہے کہ اس کو اقتدار حاصل ہو جائے، جب کہ اصل صورت حال یہ تھی کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، امت مسلمہ کا وجود ہی نہ تھا۔ جو چیز موجود تھی، وہ امت کے نام پر صرف ایک انبوه تھا۔ ایسی حالت میں کام کا آغاز افراد کی اصلاح کر کے کے دوبارہ امت کو وجود میں لانا تھا۔ پاکستان کے مسلم رہنماؤں نے جو کچھ کیا، وہ گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا (putting the cart before the horse) تھا۔ اس قسم کا غیر فطری منصوبہ بھی کامیاب نہیں ہو سکتا، اور پاکستان کے معاملے میں ایسا ہی ہوا۔ فلسطین کی تحریک میں تمام عرب دنیا براہ راست طور پر اور بقیہ مسلم دنیا بالواسطہ طور پر شریک ہے، مگر بے پناہ قربانیوں کے باوجود ابھی تک ایسا نہیں ہوا کہ فلسطین میں عربوں کی مطلوب حکومت قائم ہو جائے ۔ لیکن جہاں تک سبق کا تعلق ہے، وہ فلسطین کی مثال میں بھی پوری طرح موجود ہے۔ فلسطین میں اگر بالفرض عربوں کی حکومت قائم ہو جائے تو عملاً وہ بھی ایک ناکام ریاست ہی ثابت ہوگی، کیوں کہ فلسطینی عرب بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح صرف ایک انبوہ ہیں، نہ کہ تیار شدہ افراد۔ ایسی حالت میں بالفرض اگر فلسطین میں عربوں کی حکومت قائم ہو جائے تو فلسطین میں عملاً وہی ہوگا جو دوسرے عرب ملکوں میں ہو رہا ہے، یعنی یا تو سخت قسم کی ڈکٹیٹر شپ (dictatorship) ، یا اگر بالفرض آزادی کا ماحول ہو تو خود فلسطینی مسلمانوں کے درمیان سخت قسم کی باہمی جنگ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں صرف ایک ہی محفوظ طریقہ باقی ہے، اور وہ ہے — اسٹیٹس کو ازم کا طریقہ، یعنی حالت موجودہ کو یک طرفہ طور پر تسلیم کر لینا ۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر نفرت اور تشدد کا طریقہ ختم کر دیں۔ وہ اقدام کی نوعیت کی تمام سرگرمیوں کو مکمل طور پر بند کر دیں ۔ وہ یوٹرن (U turn) لیتے ہوئے اپنے عمل کے میدان کو بدل دیں۔ وہ دوسروں سے ٹکراؤ کے بجائے خود اپنے افراد کی تعلیم و تربیت کی طرف لوٹ آئیں ۔ وہ اپنی تمام طاقت کو "اقدام" کے بجائے "تیاری" پر مرتکز کر دیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے زندگی کا یہی واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے، وہ صرف ہلاکت ہے، نہ کہ زندگی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page