Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 536

By Maulana Wahiduddin Khan

برصغیر ہند کا پورا علاقہ ایک واحد ملک کی حیثیت رکھتا تھا جس میں مسلمان دوسری قوموں کے ساتھ آباد تھے۔ اُس وقت مسلمانوں کے کچھ رہنمائوں نے متحد ہندوستان میں دو قومی نظریہ (two nation theory) چلایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔ اُن کو اپنے مذہب کے مطابق ، زندہ رہنے کے لیے ایک الگ ملک چاہیے ۔ یہ تحریک اس مفروضے پر قائم تھی کہ مسلم قوم کے نام سے ایک امت آل ریڈی موجود ہے، اب صرف اُس کو ایک علاحدہ خطہ ارض کی ضرورت ہے۔ اُس زمانے میں ایک مسلم شاعر کا یہ شعر بہت مقبول ہوا: نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی جان و مال کی بے پناہ قربانی کے بعد 1947 میں جغرافی معنوں میں پاکستان وجود میں آگیا ، مگر معنوی اعتبار سے ، پاکستان کا اب تک کوئی وجود نہیں۔ پاکستان میں نہ اسلام آیا اور نہ وہاں کے مسلمانوں کو امن اور تحفظ حاصل ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج انڈیا کے مسلمان ، اسلام اور امن و تحفظ دونوں اعتبار سے، پاکستان کے مسلمانوں سے بہت زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1971 سے پہلے انڈیا کے مسلمان ، پاکستان جانے کے لیے بے تاب رہتے تھے ، مگر آج انڈیا کا کوئی مسلمان، پاکستان جانے کے لیے تیار نہیں ، کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ انڈیا میں وہ پاکستانی مسلمانوں کے مقابلے میں ہر اعتبار سے زیادہ بہتر حالت میں ہے۔ پاکستان بننے کے اول دن ہی سے وہاں باہمی ٹکرائو کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خاں کو گولی مار دی گئی۔ پاکستان کے مسلمانوں میں جو باہمی لڑائی شروع ہوئی، اس میں اب تک تقریباً 40 ہزار آدمی ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکا میں ایک آزاد تنظیم ہے۔ اس کا نام—فنڈ فار پیس (Fund for Peace) ہے۔ اس تنظیم کا ایک کام یہ ہے کہ وہ ملکوں کے حالات کا سالانہ انڈیکس تیار کرتی ہے۔ اس تنظیم نے 2011 میں ملکوں کا جو انڈیکس شائع کیا ہے، اس کے مطابق ، پاکستان ایک ناکام ریاست (failed state) کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ پاکستان کے مسلم رہنمائوں نے یہ فرض کر لیا کہ امت مسلمہ عملاً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page