Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 543

By Maulana Wahiduddin Khan

حیثیت سے شعوری طور پر مسلمانوں کے ذہن میں باقی نہیں رہا۔ یہی وہ ذہن ہے جس کی نمائندگی ایک مسلم شاعر نے ان الفاظ میں کی ہے: اللہ کے پلے میں وحدت کے سوا کیا ہے جو کچھ ہمیں لینا ہے، لے لیں گے محمد سے اسلام کی تاریخ اپنے پیغمبر کے بارے میں بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنا، اس کا ایک سیاسی پس منظر تھا۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استثنائی طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک عظیم تاریخ آپ کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگئی۔ آپ کے زمانے میں اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں ایک بڑا سیاسی انقلاب پیش آیا۔ اس سے پہلے کسی پیغمبر کے زمانے میں اس قسم کا سیاسی انقلاب پیش نہیں آیا تھا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا موحدانہ مشن شروع کیا، جب کہ اُس وقت آپ ایک فردِ واحد کی حیثیت رکھتے تھے، مگر 23 سال کے بعد جب 632 عیسوی میں آپ کی وفات ہوئی تو پورا عرب آپ کے دین کا پیرو بن چکا تھا۔ اُس کے بعد آپ کے اصحاب نے آپ کے مشن کو جاری رکھا، یہاں تک کہ اگلے 25 سال کے دوران عرب کے اطراف کے بیش تر ممالک میں آپ کے پیروؤں کا اقتدار قائم ہو گیا۔ ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر کا خاتمہ ہو گیا۔ آپ کی بعثت کے 100 سال کے اندر یہ ہوا کہ آپ کے ماننے والوں نے ایک عظیم مسلم ایمپائر قائم کر لیا، جس کا دبدبہ کم وبیش ہزار سال تک باقی رہا۔ یہ سیاسی انقلاب اتنا زیادہ واضح تھا کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک امریکی مصنف جان ڈرنک واٹر (وفات 1937) نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبرِ اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ— وہ عالمی تاریخ میں ایک انتہائی ممتاز انسان کی حیثیت رکھتے ہیں: One of the most remarkable men in history of the world. (The Outline of Literature by John Drinkwater, 1923)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page