زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 547
By Maulana Wahiduddin Khan
کارنامے کو اپنے پیغمبر کا کارنامہ سمجھ لیا، جو کچھ اللہ کے لیے تھا، اس کو انھوں نے اپنے پیغمبر کے حصے میں ڈال دیا۔ سیرت اور تاریخ کی کتابیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیرت اور تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ فخر کی نفسیات کے تحت لکھی گئیں ۔ سیرتِ رسول کے موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں کا عنوان غزواتِ رسول (مغازی) بن گیا، اور تاریخِ اسلام پر لکھی جانے والی کتابوں کا عنوان شاہ نامہ اسلام اور فتوح البلدان قرار پایا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ سیرتِ رسول اور تاریخِ اسلام کی کتابوں میں خدا کا عامل (divine factor) حذف ہوگیا۔ اسلام کی تاریخ عام طرز کی انسانی تاریخ بن گئی، وہ خدائی تاریخ نہ بن سکی۔ جب کہ اصل حقیقت کے اعتبار سے، سیرتِ رسول اور اسلامی تاریخ دونوں میں اللہ کا خصوصی منصوبہ کارفرما تھا۔ سیرت نگاری اور تاریخ نگاری کا یہی غیر واقعی طریقہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں میں رائج ہوگیا۔ اُس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر جو ذ ہن بنا، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ تھا کہ انھوں نے تاریخ کی تمام عظمتوں کو اپنے پیغمبر کے خانے میں ڈال دیا، جو چیز اصلًا خدا کا حصہ تھی، وہ پیغمبر کا حصہ قرار پائی۔ اس کے بعد مسلمانوں کے اندر جو نفسیات بنی، وہ فطری طور پر یہ تھی کہ اُن کو تمام بڑائی اپنے پیغمبر کی طرف دکھائی دینے لگی، مسلمانوں کے اپنے ذہن کے مطابق، اللہ کے حصے میں کچھ بھی باقی نہ رہا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader