زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 546
By Maulana Wahiduddin Khan
اِذۡ یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِءُوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہُو الَّذِیۡ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ (9-8: 61)۔ یعنی، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا، خواہ یہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ اللہ اس کو سب دینوں پر غالب کردے، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس حقیقت کو بار بار نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے مشن کے آغاز کے تقریباً 20 سال بعد مکہ فتح ہوا، جو کہ اُس وقت پورے عرب میں ہر اعتبار سے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے وقت جب آپ فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو احساسِ تواضع کے باعث آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی، حتیٰ کہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی کجاوے کی لکڑی کو چھورہی ہے۔ اُس وقت کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے جو خطبہ دیا، اُس میں یہ الفاظ تھے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ، صَدَقَ وَعْدَہٗ، وَنَصَرَ عَبْدَہٗ، وَہَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہٗ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4547)۔ یعنی، ایک اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اللہ نے اپنے بندے (محمد) کی نصرت کی اور اللہ نے دشمن کی جماعتوں کو تنہا شکست دے دی۔ حبِ شدید کا تعلق قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ ایمان کو حب شدید (2:165) کا تعلق صرف اللہ سے ہوتا ہے، کسی اور سے نہیں۔ حب کا مطلب ہے: اسٹرانگ انفکشن (strong affection)، یعنی شدید قلبی تعلق۔ بعد کے دور کے مسلمانوں کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا کہ جذباتی طور پر اُن کے لیے حب شدید کا مرکز اللہ کے بجائے پیغمبر بن گیا۔ اس طرح اُن کے جذبات کا مرجع بدل گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی اہانت پر مشتعل نہیں ہوتے، لیکن وہ اپنے پیغمبر کی اہانت پر سخت مشتعل ہوجاتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر، انھوں نے مشرکین کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے یہ کیا کہ اللہ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader