زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 549
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں مکمل طور پر ناکام رہے ۔ موجودہ زمانے میں خدا نے انتہائی اعلیٰ قسم کے دینی مواقع کھول دیے ہیں، لیکن مسلم رہنما، خواہ وہ عرب رہنما ہوں یا غیر عرب رہنما، سب کے سب اس معاملے میں بے خبر رہے۔ وہ خدا کی اسکیم کے خلاف کسی اور میدان میں زور آزمائی کرتے رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 200 سال سے بھی زیادہ مدت تک جان و مال کی قربانیاں دینے کے باوجود اُنھیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ خدا کا مقصود کیا ہے خدا کے نزدیک کرنے کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ انسان کو خدا کے منصوبہ تخلیق سے باخبر کیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے خدا نے اپنے تمام رسول بھیجے، اور اسی مقصد کے لیے آخر میں قرآن بھیجا اور اس کے متن (text) کو مکمل طور پر محفوظ کر دیا۔ قرآن اس تخلیقی منصوبے کا ایک مستند بیان (authentic statement) ہے۔ اب ضرورت ہے کہ یہ خدائی بیان ہر دور کے انسانوں تک پہنچتا رہے۔ اسی عمل کا نام دعوت الی اللہ ہے۔ مقامی دعوت سے عالمی دعوت تک پچھلے زمانوں میں جن داعیوں نے دعوت الی اللہ کا کام کیا، ان کا کام مقامی دائرے تک محدود رہا۔ دعوت کا کام ہمیشہ وسائل کی مدد سے ہوتا ہے اور پچھلے زمانے میں عالمی وسائل نہ ہونے کی بنا پر زیادہ وسیع دائرہ میں کام نہیں کیا جا سکتا تھا۔ انسانی آبادی پورے کرہ ارض پر پھیلی ہوئی تھی، لیکن پچھلے زمانے کے داعیوں کا دعوتی کام وسائل کے فقدان کی وجہ سے عملاً مقامی دائرے تک محدود رہا۔ تائید کا انتظام اللہ تعالیٰ نے عالم فطرت (nature) کے اندر بالقوہ (potential) طور پر ایسے امکانات رکھے تھے جن کو دریافت کر کے اہل ایمان عالمی دائرے میں اپنے دعوتی عمل کو انجام دے سکیں۔ یہ امکان بنیادی طور پر وہ تھا جس کو کمیونیکیشن (communication) کہا جاتا ہے۔ وہ تمام چیزیں جن کو موجودہ زمانے میں ماڈرن کمیونیکیشن (modern communication) کہا جاتا ہے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader