زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 550
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ فطرت کے امکانات کو دریافت کرکے ہی وجود میں آئے ہیں بی پرنٹنگ پریس، تیز رفتار سواریاں اور ملٹی میڈیا، سب کا سب، عالم فطرت کے امکانات کو دریافت کرکے تیار کیا گیا ہے۔ یہ تمام مواصلاتی ذرائع اسی لیے وجود میں آئے ہیں کہ اہلِ ایمان اُن کو بھرپور طور پر استعمال کریں اور اللہ کے پیغام کو پر امن طور پر تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔ موجودہ مسلمانوں کی ناکامی اسلام کے ظہور کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سیاسی اقتدار عطا کیا۔ یہ سیاسی اقتدار ساتویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارھویں صدی تک کسی نہ کسی طور پر جاری رہا۔ اس اقتدار کا مقصد حکومت یا عیش و عشرت نہیں تھا۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمان بے خوف ہو کر فطرت (nature) کی تحقیق کریں اور فطرت میں چھپے ہوئے امکانات کو دریافت کرکے وہ مواصلاتی وسائل تیار کریں جن کے ذریعے سے دعوت الی اللہ کے کام کو عالمی طور پر انجام دیا جاسکے۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے ایسے اشارے کر دیے تھے جو مسلمانوں کے لیے اپنے رول کو سمجھنے کے لیے کافی ہو سکتے تھے، مگر مسلمان اشارے کی زبان کو سمجھ نہ سکے۔ مثلاً قرآن میں کثرت سے ایسی آیتیں ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ زمین اور آسمان کی تمام چیزیں تمھارے لیے مسخر کردی گئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کائنات کی تخلیق اس طرح ہوئی ہے کہ انسان اُس میں غور و فکر کرکے اس کے اندر چھپے ہوئے موافق امکانات کو دریافت کرے اور اُن کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ وہ چیز جس کو آج مواصلاتی ٹکنالوجی کہا جاتا ہے، وہ سب اس کے اندر شامل ہے۔ دوسرا اہم اشارہ وہ ہے جو اسراء کے واقعے کی صورت میں پیش آیا۔ مکی دور کے آخر میں یہ واقعہ ہوا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصی انتظام کے تحت ایک رات کے اندر مسجد حرام (مکہ) سے مسجد اقصیٰ (یروشلم) لے جایا گیا اور پھر واپس اپنے مقام پر پہنچا دیا گیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن کی سورۃ الاسراء (17) میں کیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ مکہ اور یروشلم کے درمیان تقریباً 1250 کلومیٹر کا فاصلہ ہے، یعنی رٹرن جرنی (return journey) کے اعتبار سے 2500 کلومیٹر کا فاصلہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader