Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 563

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ ان کے اوپر یہ آشکارا ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے (41:53)۔ قرآن کی اِس آیت میں جن چیزوں کو آیات (signs) کہا گیا ہے، اُن سے مراد وہی سائنسی حقیقتیں ہیں جو پہلی بار مغربی قوموں کے ذریعے انسان کے علم میں آئیں ۔ یہ سائنسی دریافتیں بے شمار پہلوؤں سے اسلام اور دعوتِ اسلام کے لیے مفید اور معاون ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ساتویں صدی میں جو اسلامی انقلاب آیا تھا، وہ ایک پہلو سے تاریخ میں ایک نئے عمل (process) کا آغاز تھا۔ یہ عمل تدریجی طور پر اپنا کام کرتا رہا۔ نشاۃ ثانیہ کے بعد یورپ میں جو انقلابات آئے، وہ سب اِسی تاریخی عمل کی تکمیل تھے۔ مثلاً افکار کے معاملے میں کھلا پن (intellectual openness)، مذہبی آزادی، تشدد کے طریقے کا بحیثیت اصول ختم ہو جانا، بادشاہت کے بجائے جمہوریت کا نظام، پرنٹنگ پریس کا دور، وغیرہ۔ اِس قسم کی تمام تبدیلیاں جو مغربی تہذیب کے بعد دنیا میں آئیں، وہ سب خود اسلام کا مطلوب تھیں۔ اِن تبدیلیوں کے ذریعے یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کی صداقت کو خالص علمی اعتبار سے مدلل کیا جائے ۔ جدید ٹکنالوجی اور کمیونکیشن نے اِس بات کو ممکن بنا دیا کہ اسلام کی اشاعت کو عالمی سطح پر انجام دیا جا سکے ۔ اِس طرح کی بے شمار جدید چیزیں ہیں جو عین اسلام کے حق میں ہیں اور وہ عملاً سب کی سب مغربی تہذیب کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہوئی ہیں۔ خاتمہ کلام امت مسلمہ کی تاریخ اب اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ چکی ہے ۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے، جب کہ امت کے اندر وہ سوچ پیدا ہو جس کو قرآن کے اندر اجتماعی توبہ کہا گیا ہے، یعنی قومی پالیسی کو بدلنا۔ یہی امت مسلمہ کے مسائل کا واحد حل ہے۔ اِس کے سوا کوئی اور حل نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب۔ پچھلی صدیوں میں جو حالات پیدا ہوئے، اس کے نتیجے میں، ساری دنیا کے مسلمانوں کے اندر منفی نفسیات کا ذہن پیدا ہوا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنی اصل حیثیت کو بھول گئے، یعنی یہ کہ وہ اللہ کے دین کے داعی ہیں اور دوسری قومیں ان کے لیے مدعو کا درجہ رکھتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page