Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 562

By Maulana Wahiduddin Khan

عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ (61:14)۔ یعنی، پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی، پس وہ غالب ہو گئے۔ پیروانِ مسیح کے ماڈل میں دوسرا نمونہ وہ تھا جو صلیبی جنگوں کے بعد ظہور میں آیا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دنیا کے اوپر پہلی بار فطرت کے قوانین (laws of nature) منکشف ہوئے اور جدید تہذیب وجود میں آئی جس کے نتیجے میں پوری انسانیت کو بے شمار فائدے حاصل ہوئے۔ اس دوسرے معاملے میں بھی مسلمان پوری طرح ناکام ہو گئے۔ قرآن میں بیان کردہ پیروانِ مسیح کے ماڈل میں ان کے لیے یہ پیغام تھا کہ مغربی قوموں سے مقابلہ آرائی میں جب باعتبارِ نتیجہ وہ ناکام ہو جائیں تو وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی (revision) کریں۔ اسی نظرثانی کو قرآن میں اجتماعی توبہ (24:31) کہا گیا ہے۔ نظرثانی کا وہ عمل یہ تھا کہ مسلمان اپنی کوششوں کو ٹکراؤ کے میدان سے ہٹائیں اور وہ اپنے آپ کو پوری طرح تعمیری کام میں لگا دیں، مگر مسلمان نفرتِ مغرب میں اتنی شدت سے مبتلا ہوئے کہ ان کے اندر یہ تعمیری سوچ پیدا نہ ہوسکی۔ اگر مسلمان اپنی منفی نفسیات سے باہر آ کر مثبت انداز میں سوچتے تو اُن کو معلوم ہوتا کہ مغرب کی مسیحی قوموں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے، وہ عین اُن کی اپنی موافقت میں ہے ۔ اس کے نتیجے میں جو جدید تہذیب وجود میں آئی ہے، اس نے مسلمانوں کے لیے خدمتِ دین اور اشاعتِ اسلام کے نئے وسیع تر دروازے کھول دیے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر فرمایا تھا کہ بعد کے دور میں اللہ تعالیٰ کچھ سیکولر لوگوں کو کھڑا کرے گا جو دین کے حق میں تائیدی رول (supporting role) انجام دیں گے۔ مغرب کی مسیحی قوموں کا کارنامہ اسی قسم کا تائیدی کارنامہ تھا۔ اس موقع پر مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ وہ مغربی قوموں کے خلاف نفرت اور تشدد کی پالیسی کو مکمل طور پر ختم کردیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کے اندر ایک نیا مثبت ذہن ابھرتا۔ اس کے بعد وہ جان لیتے کہ مغربی قوموں نے ان کے لیے کتنا بڑا تائیدی کام انجام دیا ہے۔ اس تائیدی کام کا ایک پہلو وہ ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔ عنقریب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page