Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد کے زمانے میں ایک نیا فتنه پیدا ہوا جس کو سائنسی الحاد کہا جاسکتا ہے۔ الحاد (atheism) ہمیشہ سے دنیا میں پایا جاتا رہا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں ملحد مفکرین کو یہ موقع ملا کہ وہ بظاہر سائنسی دلائل کے ذریعے الحاد کو نئی طاقت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں ۔ مثال کے طور پر ڈارون ازم (Darwinism) کو الحاد کی حمایت میں سائنسی دلیل کے طور پر پیش کرنا۔ موجودہ زمانے کا سائنسی الحاد اصلاً سائنسی الحاد نہیں ہے، بلکہ وہ مغالطہ آمیز قسم کے بظاہر سائنسی دلائل کی بنیاد پر الحادی فکر کی عمارت کھڑی کرنا ہے۔ اب اُن لوگوں کو اخوانِ رسول کا درجہ ملے گا جو اس فریب کا پردہ چاک کریں اور الحاد کا رشته مفروضہ دلائل سے منقطع کردیں اور اس طرح الحاد کو بے دلیل اور علمی اعتبار سے بے وزن بنادیں۔ پچھلے دور میں اصحابِ رسول نے جو کارنامہ انجام دیا، اُس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سیکڑوں سال کے عمل کے دوران مخصوص تاریخی حالات پیدا کیے تھے۔ یہ تاریخی حالات وہ مواقع تھے جن کو اصحاب رسول نے سمجھا اور اُن کو دانش مندانہ طور پر استعمال کر کے مطلوب انقلاب بر پا کیا۔ اسی طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کے ذریعے جو فکری انقلاب واقع ہوگا، اس کے لیے ضروری مواقع بھی خدا کی طرف سے پیدا کیے جانے والے ہیں۔ اخوانِ رسول کا کام بھی یہی ہے کہ وہ اپنے دور میں پیدا ہونے والے مواقع کو سمجھیں اور اُن کو دانش مندانہ طور پر استعمال کر کے اُس تاریخی عمل کو انجام دیں جس کو ظہور میں لانا اُن کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ ذیل میں دوسرے دور کے حالات کا مختصر طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ جدید الحاد الحاد (atheism) کوئی نیا ظاہرہ نہیں۔ قدیم زمانے میں بھی کسی نہ کسی صورت میں الحادی فکر پایا جاتا رہا ہے۔ لیکن قدیم زمانے میں الحاد کے لیے کوئی فکری بنیاد (rational base) موجود نہ تھی۔ اس لیے قدیم زمانے میں الحاد کو زیادہ فروغ حاصل نہ ہوسکا۔ موجودہ زمانے میں جب سائنسی تحقیقات سامنے آئیں تو دورِ جدید کے ملحدین نے محسوس کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page