کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ وہ سائنسی تحقیقات کو اپنے حق میں ایک علمی ثبوت کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس طرح وہ فلسفہ وجود میں آیا جس کو سائنسی فلسفہ (scientific philosophy) کہا جاتا ہے۔ سائنسی فلسفہ کیا ہے۔ سائنسی فلسفہ دراصل مبنی بر سائنس الحاد (science-based atheism) کا دوسرا نام ہے۔ اس طرح بیسویں صدی عیسوی میں بہت سے فلسفی اٹھے جنھوں نے سائنسی تحقیقات کو ملحدانہ فلسفے کے حق میں استعمال کیا۔ اس طرح وہ جدید الحاد وجود میں آیا جس کو سائنسی الحاد کہا جا سکتا ہے۔ اس موضوع پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئیں ہیں۔ بطور مثال یہاں صرف ایک کتاب کا نام درج کیا جاتا ہے: Julian Huxley, Religion Without Revelation سائنسی الحاد، خالص منطقی اعتبار سے، ایک غیر علمی الحاد ہے۔ سائنسی الحاد کے داعیوں نے غیر علمی طور پر سائنسی حقیقتوں کو اپنے حق میں پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ چنانچہ اسی زمانے میں ایک اور طبقہ پیدا ہوا جو نسبتاً زیادہ سنجیدہ تھا۔ وہ سائنسی حقائق کے غیر علمی استعمال کے خلاف تھا۔ اس دوسرے طبقے نے کوشش کی کہ سائنسی حقائق کو اس کے صحیح تناظر (perspective) میں پیش کیا جائے۔ یہ دوسرا طبقہ اپنے اعلان کی حد تک مذہبی نہیں تھا، وہ بظاہر سیکولر تھا۔ لیکن اُس نے یہ اہم کام انجام دیا کہ اس نے جدید ملحدین کو خالص علمی اعتبار سے مکمل طور پر رد کر دیا۔ اس معاملے کے چند خاص پہلو ہیں۔ 1۔ اٗس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جدید سائنس (physical science) نے اپنا میدان تمام تر مادی اشیاء کی تحقیق کو بنایا۔ اس کے نتیجے میں بڑی بڑی مادی حقیقتیں دریافت ہوئیں اور مادی نظریات قائم ہوئے۔ اس صورتِ حال کو استعمال کرتے ہوئے جدید ملحدین نے یہ کیا کہ انھوں نے سچائی کی مادی تعبیر (material interprtation of truth) کا نظریہ وضع کیا۔ انھوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ حقیقت وہی ہے جو مادی اصطلاحوں میں بیان کی جاسکے، جو چیز مادی اصطلاحوں میں بیان نہ کی جاسکے، وہ حقیقت بھی نہیں۔ اس نظریے کے رد میں کئی مفکرین نے قیمتی کتابیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader