زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 579
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی تاریخ میں ابتدائی اور معیاری زمانہ وہ ہے جس کو عہد رسالت کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں انسانی تعلقات کی بنیاد جس اصول پر قائم کی گئی تھی، وہ شاہد اور مشہود (3:85) کی بنیاد تھی۔ یہ دونوں لفظ شہادت (گواہی) سے اخذ کیے گئے ہیں۔ شاہد کا مطلب ہے گواہ (witness)، اور مشہود کا مطلب ہے وہ جس پر گواہی دی جائے (witnessed)۔ شہادت سے مراد دعوت ہے اور شاہد اور مشہود سے مراد وہی چیز ہے جس کے لیے داعی اور مدعو کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان شاہد اور مشہود کی یہ مساوات (equation) عہد رسالت اور عہد صحابہ میں قائم رہی۔ اس کے بعد عباسی سلطنت کا زمانہ آیا، جب کہ دنیا کے بڑے حصے میں ایک مسلم ایمپائر قائم ہو گیا۔ اب شاہد اور مشہود کی یہ سابق مساوات ٹوٹ گئی اور نئی مساوات، حاکم اور محکوم کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ یہی وہ زمانہ ہے، جب کہ مسلم فقہاء نے دار الكفر اور دار الاسلام کی اصطلاحیں وضع کیں ۔ اس مساوات کے تحت، دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ مسلم اکثریت کے علاقے دار الاسلام بن گئے۔ اور اس کے مقابلے میں غیر مسلم علاقے دار الکفر قرار پائے۔ انیسویں صدی عیسوی میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں (colonial powers) کے ظہور کے بعد یہ مساوات (equation) دوبارہ ٹوٹ گئی۔ اب مغربی تہذیب کے غلبہ کے تحت، دنیا میں جمہوریت (democracy) کا زمانہ آیا۔ سیاست کے جمہوری تصور کے تحت، حاکم اور محکوم کی مساوات بے معنی قرار پائی۔ اُس نے اپنے حق میں فکری اساس کھودی۔ مسلمانوں اور مغربی قوموں کے درمیان بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگیں (crusades) پیش آئیں ۔ ان جنگوں میں مغربی قوموں کو شکست ہوئی، لیکن اس شکست نے مغربی قوموں کے اندر ایک مثبت نتیجہ پیدا کیا۔ یہ لوگ علم کے میدان میں سرگرم ہو گئے، یہاں تک کہ مغربی یورپ میں پندرھویں اور سولھویں صدی میں وہ واقعہ پیش آیا جس کو یورپ کی نشاة ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد مغربی دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا۔ مغربی قوموں نے تجارت اور صنعت کے نئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader