Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 580

By Maulana Wahiduddin Khan

طریقے دریافت کیے، یہاں تک کہ عمومی پیمانے پر ایک نئی مساوات (equation) قائم ہوگئی۔ یہ تاجر اور خریدار (trader and customer) کی مساوات تھی۔ اس مساوات کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے ایک نیا کلچر وجود میں آیا جو خریدار دوست کلچر (customer-friendly culture) کے اصول پر مبنی تھا۔ یہی کلچر آج کی دنیا میں ابھی تک باقی ہے۔ اس نازک وقت میں مسلمانوں کے ساتھ ایک المیہ (tragedy) پیش آیا۔ مسلمان حاكم اور محکوم کی سابقہ سوچ سے باہر نہ آ سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان جدید اقتصادیات کی مین اسٹریم میں شامل نہ ہو سکے ۔ اس پچھڑے پن کی قیمت مسلمانوں کو یہ دینی پڑی کہ وہ موجودہ زمانے میں دہرا نقصان کا شکار ہو گئے۔ جدید حالات سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بنا پر ایک طرف یہ ہوا کہ وہ اقتصادیات میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ دوسرا اس سے بھی بڑا نقصان یہ تھا کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ڈبل اسٹینڈرڈ (double standard) کا کیس بن گئے ۔ ذہنی طور پر وہ دوسری قوموں کے بارے میں منفی خیالات رکھتے تھے، لیکن ان کا یہ منفی فکر قابل عمل نہیں ہوسکتا تھا۔ اپنی مادی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اُن کو اُنھیں قوموں سے مل کر کام کرنا تھا۔ داخلی طور پر وہ ان قوموں کے بارے میں منفی ذہن رکھتے ہوئے ، خارجی زندگی میں اُنھیں ان قوموں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا۔ اس طرح مسلم تاریخ میں پہلی بار ایک سنگین بُرائی پیدا ہوئی، یعنی داخلی طور پر منفی رائے رکھتے ہوئے ، خارجی معاملات میں دوسروں کے ساتھ سمجھوتہ کر کے اپنی مادی زندگی کی تعمیر کرنا۔ یہ عملی یا ڈبل اسٹینڈرڈ کی عمومی حالت تھی۔ اس قسم کی عمومی دو عملی مسلمانوں کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آئی۔ اس بُرائی سے بچنے کا واحد طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے دورِ اول کی طرف فکری واپسی، یعنی دورِ اول کی طرح دوبارہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کی مساوات (equation) قائم کرنا۔ داعی اور مدعو کی مساوات ہی اسلام کے مطابق، صحیح مساوات ہے۔ اس مساوات کو دوبارہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page