Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

لکھیں۔ بطورِ مثال ایک کتاب کا نام یہ ہے : Bertrand Russel, Human Knowledge 2 - اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ فزیکل سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ دنیا میں جو واقعات ہوتے ہیں، ان کے پیچھے کوئی سبب کارفرما ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کو گرم کرنے سے اسٹیم کا وجود میں آنا۔ سائنس کے اس پہلو کو لے کر وہ الحاد موافق نظریہ وضع کیا گیا جس کو اصولی تعلیل (principle of causation) کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ ہماری دنیا میں جو واقعات وجود میں آتے ہیں، وہ کسی مادی سبب کا نتیجہ ہوتے ہیں، نہ کہ کسی خالق کی کارفرمائی کا نتیجہ۔ اس نظریے کی تردید میں متعدد قیمتی کتابیں لکھی گئیں ۔ مثال کے طور پر اُن میں سے ایک کتاب کا نام یہاں درج کیا جاتا ہے : James Jeans, The Mysterious Universe 3 - اس معاملے میں غالباً سب سے زیادہ گم راہ کن رول چارلس ڈارون کا ہے۔ اس نے حیاتیاتی نمونوں کے مطالعے کے دوران یہ پایا کہ مختلف حیاتیاتی نمونوں کے درمیان مشابہت (similarity) پائی جاتی ہے۔ اس کو لے کر اس نے یہ دعویٰ کیا کہ تمام ذی حیات اشیاء ایک ہی مشترک اصل سے نکلی ہیں۔ یہ تصور نظریہ ارتقا (theory of evolution) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نظریہ جدید دور میں بہت زیادہ پھیلا۔ اس کے بارے میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں، یہاں تک کہ جدید علمی حلقے میں اس کو عمومی مقبولیت (general acceptance) حاصل ہوگئی۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ نظریہ تمام تر علمی مغالطے پر قائم ہے۔ چنانچہ اس کے بارے میں سیکولر علما نے تحقیق کی اور اس نظریے کی تردید میں متعدد قیمتی کتابیں شائع ہوئیں ۔ مثال کے طور پر اُن میں سے ایک کتاب کا نام یہ ہے : Lunn, Revolt Against Reason

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page