زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 596
By Maulana Wahiduddin Khan
معنوں میں مذہبی آزادی آگئی ہے اور دوسری طرف مواصلات کی ترقی نے اس بات کو آخری حد تک ممکن بنا دیا ہے کہ کسی رکاوٹ کے بغیر عالمی دعوت کا کام کیا جا سکے ۔ یہ وہی کام ہے جس کو حدیث میں إِدْخَالُ الْكَلِمَةِ فِي كُلِّ الْبُيُوتِ کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں دوسری بات وہ ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیث میں آیا ہے۔ شہادت عظمیٰ کی روایت میں حجج کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی مطلوب دعوت کے کام کو حجت یا دلیل کی سطح پر انجام دینا ۔ یہ بھی موجودہ زمانے کی ایک خصوصیت ہے ۔ چنانچہ موجودہ زمانے کو دورِ تعقل ( age of reason) کہا جاتا ہے ۔ موجودہ زمانے میں علم کی ترقی کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ عقلی ڈیٹا (rational data) کی بنیاد پر کسی بات کو مدلل کیا جاسکے۔ زمانے کی یہ تبدیلی بھی حدیث کی پیشین گوئی کے عین مطابق ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ اسلام کی صداقت کو عقلِ انسانی کی بنیاد پر مدلل کر کے اس کو انسان کے سامنے پیش کیا جاسکے۔ گو یا شہادت عظمیٰ کے دو تقاضے موجودہ زمانے میں پہلی بار انسان کی دسترس میں آئے ہیں— عالمی مواصلات اور عقلِ انسانی کی مسلمہ سطح پر حقائق کا اثبات ۔ حدیثِ رسول کے مطابق ، دورِ آخر میں شہادتِ عظمیٰ کا جو واقعہ ظہور میں آنے والا ہے، وہ حدیث کے مطابق، ایک ایسا واقعہ ہوگا جو اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آیا۔ اُس کے لیے ضروری ہے کہ انسانی علم عقلی ارتقا کے اعلیٰ درجے تک پہنچ چکا ہو۔ اسی کے ساتھ وہ تمام وسائل موجود ہو چکے ہوں جو اس طرح کی عالمی شہادت کی ادائیگی کے لیے ضروری ہیں ۔ موجودہ زمانے میں یہ تمام وسائل پوری طرح وجود میں آچکے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ زمانہ ہی وہ زمانہ ہے جب کہ شہادتِ عظمیٰ کا وہ واقعہ ظہور میں آئے جس کی پیشین گوئی حدیث رسول میں کی گئی ہے۔ خلاصہ کلام اسلام میں انفرادی دین اور اجتماعی دین کے بارے میں یہاں جو کچھ کہا گیا، وہ اس معاملے میں کوئی نئی اسکیم نہیں ہے۔ اس کی حیثیت صرف یہ ہے کہ اسلام کی تاریخ میں بالفعل جو کچھ پیش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader