Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 595

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کا اصل نشانہ ہر نظام میں ایسا ہے کہ کچھ چیزیں اس نظام کا اصل حصہ (real part) ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں وہ ہیں جو اس نظام کا اضافی حصہ (relative part) ہوتی ہے۔ اسلام میں خارجی اعتبار سے، اصل نشانے کی حیثیت صرف ایک چیز کو حاصل ہے، اور وہ دعوت یا شہادت ہے۔ اس کے سوا جو خارجی چیزیں ہیں، اُن کی حیثیت اسلام کے اضافی حصہ (relative part) کی ہے۔ اسلام کو عقلی طور پر سمجھنے کے لیے اس حقیقت کو جاننا بہت ضروری ہے۔ اس حقیقت کو جانے بغیر اسلام کی جو توجیہ کی جائے گی، وہ کبھی درست نہیں ہوسکتی۔ شہادتِ عظمیٰ اسلام کا نشانہ اقامتِ نظام نہیں ہے، بلکہ دعوت الی اللہ ہے، یعنی تمام انسانوں کو اللہ کا پیغام پہنچانا۔ تمام انبیاء کا مشن یہی دعوت الی اللہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی دعوتی مشن کے لیے کام کیا۔ یہ دعوتی مشن پوری تاریخ میں جاری رہا۔ عالمی ابلاغ کے اعتبار سے، اِس کا کامل اظہار دورِ آخر میں ہوگا۔ اِس کامل اظہار کو ایک حدیثِ رسول میں شہادتِ عظمیٰ کہا گیا ہے، یعنی تمام انسانیت کے سامنے اللہ کے دین کی عالمی گواہی ـ هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ (صحيح مسلم، حديث نمبر 2938)۔ احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شہادت عظمیٰ یا عالمی گواہی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مطابق وسائل دستیاب ہو چکے ہوں۔ اس معاملے کے دو پہلو ہیںـ ایک یہ کہ اس طرح کی عالمی شہادت کے لیے عالمی مواصلات (global communication) لازمی طور پر ضروری ہے۔ بیسویں صدی میں عالمی مواصلات کے معاملے میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے، یہاں تک کہ موجودہ زمانے کو مواصلات کا زمانہ (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس واقعے میں اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ زمانے میں پوری طرح وہ وقت آ گیا ہے کہ شہادتِ عظمیٰ یا عالمی دعوت کا کام موثر طور پر انجام دیا جاسکے۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف، مکمل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page