Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 602

By Maulana Wahiduddin Khan

فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پا کی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ“۔(31-2:30) اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ زمین کو اِس آزاد مخلوق کے چارج میں دے دے، اُس وقت فرشتوں نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ آزادی پا کر انسان زمین پر فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔ فرشتوں کا یہ شبہ بے بنیاد نہ تھا۔ خود قرآن کے بیان سے ثابت ہے کہ فی الواقع ایسا ہی ہوا۔ ساتویں صدی کے ربع اول میں جب قرآن اترا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ آیت شامل فرمائی: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (30:41)۔ یعنی، خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ جب بطور واقعہ وہی ہوا جس کا شبہ فرشتوں نے ظاہر کیا تھا، تو پھر اللہ نے اولاد آدم کو کیوں پیدا کیا اور کیوں اُن کو زمین پر بسنے کا موقع دیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، آدم کی پیدائش سے لے کر ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول تک جب کہ قرآن نازل ہوا، ہر قوم اور ہر بستی میں مسلسل طور پر اللہ کی طرف سے نذیر (بتانے والے) آتے رہے، اس کے باوجود آدم کی بعد کی نسلوں میں پیدا ہونے والے لوگوں کی اکثریت مفسد ثابت ہوئی، حتیٰ کہ پوری تاریخ فساد سے بھری ہوئی تاریخ بن گئی۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا۔ اس سوال کا جواب قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے آدم کو اُن کی اولاد کے نام (آسماء) بتائے۔ یہاں علم اسماء سے مراد علم مسمّیات ہے۔ یہاں اسم سے مراد افراد کے نام (names) نہیں، بلکہ یہاں اسم سے مراد مُسَمّٰی (named) ہے، یعنی نام سے موسوم افراد۔ دوسری بات یہ کہ اُس وقت آدم کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page