زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 603
By Maulana Wahiduddin Khan
سامنے اللہ نے اُن کی اولاد کے جن لوگوں کو پیش کیا، وہ پوری ذریتِ آدم یا پورا مجموعۂ انسانی نہ تھا۔ کیوں کہ اگر تمام پیدا ہونے والے انسان اُن کے سامنے پیش کیے جاتے تو فرشتوں کا شبہ رفع نہیں ہوسکتا تھا، بلکہ اِس قسم کے مظاہر سے فرشتوں کے شبہ کی تصدیق ہو جاتی۔ کیوں کہ خود قرآن کی تصدیق کے مطابق، پیدا ہونے والے انسانوں کی عظیم اکثریت عملاً مفسد ثابت ہوئی۔ اِس پہلو پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اْس وقت پوری اولادِ آدم کو نہیں بلکہ صرف اولادِ آدم کے منتخب افراد کو پیش کیا تھا۔ یہ منتخب افراد ہی تھے جن کو قرآن میں دوسرے مقام پر نبی اور صدیق اور شہید اور صالح کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے (69:4)۔ یہ مظاہرہ اللہ تعالیٰ نے صرف فرشتوں کے لیے نہیں کیا تھا، بلکہ بالواسطہ طور پر اْس کا مخاطب وہ انسان بھی تھے جو اللہ کے مقصد تخلیق کو سمجھنا چاہتے ہوں۔ اِس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کی سورۃ الملک کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: اَلَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ یعنی، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اس آیت سے اور قرآن کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق سے اللہ تعالیٰ کا مقصود احسن العمل افراد ہیں، پورے مجموعۂ انسانی میں عدل اور فلاح کا نظام قائم کرنا منصوبہ الہی کا منشا نہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ خالق نے جس نقشے کے تحت انسان کو پیدا کیا، اِس میں ایسا ہونا ممکن ہی نہ تھا۔ کیوں کہ اِس منصوبۂ تخلیق کے مطابق، ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی تھی۔ ہر انسان کے لیے کامل معنوں میں آزادانہ انتخاب (fredom of choice) کا موقع کھلا ہوا تھا۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات تھی کہ لوگ اپنی آزادی کا غلط استعمال کریں اور اِس طرح اکثر لوگ عملاً مفسد بن جائیں۔ اِس بنا پر اللہ تعالیٰ نے ایک قابلِ عمل نشانے کا انتخاب کیا، یعنی اپنے منصوبہ تخلیق کو مبنی بر فرد کے اصول پر قائم کرنا، نہ کہ مبنی بر مجموعہ کے اصول پر۔ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نقشہ تخلیق کے مطابق، اب جو ہورہا ہے، وہ یہ کہ زمین پر کامل معنوں میں آزادی کا ماحول ہے۔ لوگ ایک کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader