زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 614
By Maulana Wahiduddin Khan
سے مغلوب ہو کر رہ گئیں ۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر یہ کوشش کی کہ وہ اپنی سیاسی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکیں، لیکن دو سو سالہ جدوجہد کے باجود وہ اپنی ان کوششوں میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ یہ کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ عملاً مسلمانوں کے رول میں تبدیلی کا اعلان تھا۔ اٹھارھویں صدی میں مسلمانوں کا سیاسی رول ختم ہو چکا تھا۔ اب اُن سے جو رول مطلوب تھا، وہ دوسرا رول تھا، اور وہ تھا— جدید امکانات کو استعمال کر کے عالمی سطح پر دینِ خداوندی کی اشاعت ۔ دورِ جدید میں اللہ نے اپنی مصلحت کے تحت اہلِ مغرب کو یہ موقع دیا کہ وہ نئے وسائل کی دریافت کر کے اُن کو عام کریں۔ اہلِ مغرب کے ذریعے دنیا میں پہلی بار وہ چیزیں آئیں جو عالمی دعوت کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً مذہبی آزادی، کھلا پن، عالمی آمدورفت، پرنٹنگ پریس، عالمی کمیونیکیشن، وغیرہ۔ یہ نئے حالات اس بات کا اشارہ تھے کہ اب امتِ مسلمہ کا رول بدل گیا ہے۔ اب اُن کا رول یہ ہے کہ نئے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے وہ اسلام کے فطری پیغام کو تمام قوموں اور تمام انسانوں تک پہنچادیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ تقریباً پوری امت اس عظیم حقیقت سے بے خبر رہی۔ انھوں نے رول کی اس تبدیلی کو نہیں سمجھا۔ وہ اپنی گزری ہوئی سیاسی عظمت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اپنے مفروضہ دشمنوں سے لڑائی کرتے رہے۔ یہ عمل خدائی منصوبے کے خلاف تھا، اس لیے اس کو خدا کی مدد حاصل نہیں ہوئی اور وہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ امتِ مسلمہ کے نئے رول کو حدیث میں بطور پیشین گوئی ان الفاظ میں بیان کر دیا گیا تھا: لا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ إِلاَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی، زمین کی پشت پر نہ کوئی پختہ گھر باقی رہے گا اور نہ کوئی خیمہ، مگر اللہ اس میں کلمۂ اسلام داخل کر دے گا۔ رول کی تبدیلی انیسویں اور بیسویں صدی نے امتِ مسلمہ کو ایک نئے دور میں پہنچا دیا۔ نئے دور کے حالات بتا رہے تھے کہ امتِ مسلمہ کا رول اب بدل گیا ہے اور وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے—

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader