Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 613

By Maulana Wahiduddin Khan

دور ہے۔ اس دور کا آغاز مسلمانوں کے سیاسی عروج کے زمانے میں ہوا، لیکن اس دور کی تکمیل تاریخ کے اُس تیسرے دور میں ہوئی جس کو اوپر کی تقسیم میں ”سیکولر لوگوں کی خلافت“ کہا گیا ہے۔ امت مسلمہ کا نیا رول قرآن کی سورہ آل عمران میں فطرت کے ایک اصول کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: قُلِ اَللّٰھُمَّ مَلِکَ اَلْمُلۡکِ تُؤۡتِی اَلْمُلۡکَ مَنۡ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ اَلْمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَاءُ ٭ وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَاءُ ٭ بِیَدِکَ اَلْخَیْرُ ٭ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُ (3:26)۔ یعنی، تم کہو، اے اللہ، سلطنت کے مالک، تو جس کو چاہے، سلطنت دے اور جس سے چاہے، سلطنت چھین لے۔ اور تو جس کو چاہے، عزت دے اور جس کو چاہے، ذلیل کرے۔ تیرے ہاتھ میں ہے سب خوبی۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلافتِ ارضی کسی گروہ کی اجارہ داری (monopoly) نہیں۔ یہ ایک رول ہے جس کو اللہ اپنے منصوبے کے تحت کبھی ایک گروہ کو دیتا ہے، کبھی دوسرے گروہ کو۔ جب کسی گروہ کو خلافتِ ارضی ملے تو اس کو یہ دریافت کرنا چاہیے کہ اس کو یہ رول کس مقصد کے لیے دیا گیا ہے۔ اور جب اُس سے خلافتِ ارضی چھین لی جائے تو اُس وقت بھی اس کو جاننا چاہیے کہ یہ منصب کیوں اُس سے چھیننا گیا۔ اس حقیقت سے بے خبری کا یقینی نقصان یہ ہے کہ متعلقہ گروہ کو اللہ کی نصرت نہ ملے اور نتیجہ تا وہ ہر اعتبار سے ناکام ہوکر رہ جائے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم ایمپائر قائم ہوا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ اب خلافتِ ارضی کا رول مسلمانوں کو دیا گیا ہے۔ وہ رول یہ تھا کہ دنیا سے قدیم طرز کی بادشاہت (kingship) کا خاتمہ کر دیا جائے۔ یہ کام مسلمانوں کے ذریعے عالمی پیمانے پر انجام پایا۔ صدیوں تک مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ وہ جس ملک میں داخل ہوئے، وہاں انھوں نے قدیم طرز کی سیاسی آمریت کا خاتمہ کر دیا۔ لیکن پھر وہ وقت آیا کہ مسلم سلطنتوں کا زوال شروع ہوا۔ انیسویں صدی کا آغاز مسلمانوں کے سیاسی غلبے کے خاتمے کا اعلان تھا۔ پوری دنیا میں ایک کے بعد ایک، مسلم سلطنتیں مغربی اقوام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page