Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 616

By Maulana Wahiduddin Khan

سوچ (positive thinking) لائی جائے، اس کو تیار کیا جائے کہ وہ دوبارہ اپنے اصل مشن پر کھڑی ہو جائے، یعنی دعوت الی اللہ کا مشن ۔ اس معاملے میں کوئی بھی عذر (excuse) قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ دعوتہ ایمپائر قدیم زمانے میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم تھا۔ آج بھی تمام مسلمان اسی ماضی کی واپسی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ مگر یہ ایک قسم کی خلاف زمانہ بات (anachronism) ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ تاریخ کے بارے میں اللہ کے منصوبے کو سمجھیں اور اس کے مطابق، اپنے عمل کا نقشہ بنائیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اب سیاسی ایمپائر بنانے کا زمانہ ختم ہو گیا ، لیکن امت مسلمہ کے لیے ایک اور زیادہ بڑا موقع پوری طرح کھل چکا ہے اور وہ ہے پرامن اسلامی دعوت کا عالمی ایمپائر قائم کرنا ۔ اس قسم کے دعوہ ایمپائر کا امکان ایک حدیث رسول میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا ہے۔ یکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا : كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ تُعْطَوْنَهَا، تَمْلِكُونَ بِهَا الْعَرَبَ، وَتَدِينُ لَكُمْ بِهَا الْعَجَمُ (البداية والنهاية، جلد 3، صفحہ 123) ۔ یعنی، میں تم کو ایک ایسے کلمہ کی طرف بلاتا ہوں جس کے ذریعے تم عرب کے مالک بن جاؤ گے اور عجم تمھاری اطاعت کریں گے۔ قدیم زمانے میں سیاسی ایمپائر بنانے کے لیے بڑی بڑی لڑائیاں ہوئیں، لوگوں کو جانوں کی قربانیاں دینی پڑیں، مگر آج اسلام کا دعوہ ایمپائر یا آئیڈیا لاجکل ایمپائر بنانے کے لیے کسی لڑائی کی ضرورت نہیں ۔ نئے حالات میں پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ اسلام کا پر امن دعوہ ایمپائر بنایا جائے اور دنیا اس کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے اس کے ساتھ اپنا بھر پور تعاون پیش کرے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page