زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 617
By Maulana Wahiduddin Khan
دورِ مسائل کا خاتمہ قرآن کی سورہ البقرہ کے آخر میں اُس وقت کے اہلِ ایمان کی زبان سے ایک دعا نقل ہوئی ہے۔ اس دعا کا ایک حصہ یہ ہے: رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286)۔ یعنی، اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اس دعا میں ’اِصر‘ کا لفظ آیا ہے۔ اصر کا مطلب بوجھ (burden) ہے۔ اس بوجھ سے مراد کوئی محدود بوجھ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ ناموافق عالمی حالات ہیں جو ہزاروں برس سے چلے آرہے تھے۔ اسی اصر کو قرآن میں دوسرے مقام پر ’فتنہ‘ کہا گیا ہے اور حکم ہوا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39)۔ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں ’اِصر‘ سے مراد قدیم شرائع نہیں، بلکہ وہ قدیم حالات ہیں جو اہلِ توحید کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں جس کلچر کا عمومی طور پر دبدبہ تھا، وہ شرک اور شخصی بادشاہت کے تحت بنا تھا۔ اس کلچر نے مذہبی آزادی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اسی بنا پر پچھلے زمانے میں اہلِ ایمان کو ستایا گیا۔ اسی بنا پر ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں کو ستایا گیا اور ان کے خلاف جنگیں چھیڑی گئیں۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ خدائی دین کے خلاف ان ناموافق اسباب کا خاتمہ ہو اور عالمی سطح پر ایسے حالات پیدا ہوں جب کہ ایک انسان پوری آزادی کے ساتھ اللہ کے دین کی پیروی کر سکے۔ اس حقیقت کو قرآن کی ایک اور آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ھُوَ الَّذِيْنَ أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا (48:28)۔ یعنی، اور اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ وہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے۔ اور اللہ کافی گواہ ہے۔ قرآن کی اس طرح کی آیتوں سے مراد ایک عظیم انقلاب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader