زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 625
By Maulana Wahiduddin Khan
کرے ۔ انسان کی آزادی کی بنا پر دنیا میں وہی ہونا تھا جس کو فرشتوں نے فساد (2:30) سے تعبیر کیا تھا۔ تخلیق کے اعتبار سے، فساد کا لفظ کوئی منفی لفظ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں مختلف قسم کے ناموافق حالات پیدا ہوں، تا کہ انسان کے لیے مسلسل طور پر چیلنج کی صورت حال باقی رہے ۔ چیلنج کی یہ صورتِ حال عین مقصودِ تخلیق ہے، کیوں کہ اسی صورتِ حال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ افراد کے لیے امتحان کا ماحول جاری رہے اور مطلوب افراد کا انتخاب ممکن ہو سکے۔ قرآن کی سورۃ الانعام میں انسان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى (6:94)۔ قرآن کے ان الفاظ کا لفظی ترجمہ شاہ عبد القادر دہلوی نے اس طرح کیا ہے ۔ اور آئے تم ہمارے پاس ایک ایک ۔ شاہ عبد القادر دہلوی کا یہ ترجمہ قرآن کی مذکورہ آیت کا نہایت صحیح ترجمہ ہے۔ ’فرادى‘ کا لفظ ’فرد‘ کی جمع ہے، یعنی افراد۔ قرآن کی یہ آیت خدا کے تخلیقی منصوبے کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کو زمین پر بسایا۔ اس آبادکاری کا مقصد یہ نہیں تھا کہ انسان دنیا میں بہتر سماجی نظام بنائے۔ بہتر سماجی نظام کی جگہ صرف جنت ہے۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق ، موجودہ دنیا اقامتِ نظام کے لیے نہیں ہے، بلکہ انتخاب افراد کے لیے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی آزادی کی بنا پر اس دنیا میں کسی معیاری نظام کا بننا ممکن ہی نہیں۔ پوری تاریخ میں تقریباً تمام ذہن، مسلم اور غیر مسلم دونوں، ایک ہی مشترک غلطی میں مبتلا رہے ہیں۔ انھوں نے بہتر سماجی نظام قائم کرنے کو اپنی جد و جہد کا نشانہ بنایا۔ مگر بلا استثناء سب کے سب اس مقصد میں ناکام رہے ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اس قسم کا نشانہ عملی طور پر ممکن ہی نہ تھا، کیوں کہ وہ منصوبہ خداوندی کے خلاف تھا۔ خالق نے اپنے منصوبے کے مطابق، دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ ہمیشہ ’دار الکبد‘ بنی رہے۔ اس طرح یہ ممکن ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر قسم کے حالات پیدا ہوں۔ لوگوں کو بار بار نقصان (2:155) کا تجربہ ہو۔ طرح طرح کے حادثات پیش آئیں۔ انسان اور شیطان کی طرف سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader