Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 624

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد آپ نے بتایا کہ وہ کلمہ یہ ہے کہ تم کہو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور تم چھوڑ دو ان چیزوں کو جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو (تَقُوْلُوْنَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَتَخْلَعُونَ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِه) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول میں ایک تاریخی بات کو مخاطبین کی مانوس زبان میں کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشن کوئی محدود مشن نہیں ہے۔ یہ خالق کی ایک عظیم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک دور کو ختم کر کے دوسرے دور کو لانے کا منصوبہ ہے۔ اگر تم اُس کا ساتھ دو تو یہ تمھارے لیے سرفرازی کا باعث ہوگا۔ اس مشن کا ساتھ دے کر تم ایک نئے دور تاریخ کے نقیب (harbinger) بن سکتے ہو۔ توحید کے مشن کے ذریعے بعد کی تاریخ میں یہ انقلابی دور آیا۔ اُس نے انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلم علما اور مورخین نے اس واقعے کو صرف امت مسلمہ کے ایک سیاسی فخر (political glory) کے طور پر لیا۔ وہ اس انقلاب کے وسیع تر پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ لیکن سیکولر مورخین نے اس پہلو کو دریافت کیا اور کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا۔ انھیں میں سے ایک فرانس کا مورخ ہنری پرین (وفات 1935) ہے۔ ہنری پرین نے اس حقیقت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے — اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا۔ تاریخ کا روایتی ڈھانچہ توڑ دیا گیا: Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne: A History of Europe, London, 1939, p. 46) اس تاریخی واقعے کی اصل اہمیت اس اعتبار سے نہیں تھی کہ اس کے نتیجے میں ایک مسلم ایمپائر وجود میں آئے ۔ اس واقعے کی اصل اہمیت یہ تھی کہ اُس نے انسانی تاریخ کے سفر کو صحیح رخ کی طرف موڑ دیا، اس نے انسانی تاریخ کو خدائی منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو زمین پر بسایا اور اس کو ہر طرح کی آزادی دی۔ اس تخلیق کا مقصد یہ نہیں تھا کہ انسان موجودہ دنیا میں آئیڈیل حکومت بنائے یا آئیڈیل سماج قائم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page