زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 627
By Maulana Wahiduddin Khan
مفکرین نے۔ دونوں کے لیے اس کا مشترک سبب یہ تھا کہ وہ تاریخ کا مطالعہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کی روشنی میں نہ کر سکے۔ وہ خود اپنے خود ساختہ ذہن کے تحت تاریخ کا مطالعہ کرتے رہے۔ اس بنا پر دونوں گروہوں کا حال یہ ہوا کہ وہ اُس خدائی حکمت (divine wisdom) سے بے خبر رہے جو انسانی تاریخ کے درمیان مسلسل طور پر اور مؤثر طور پر جاری رہی۔ دورِ آزادی اسلام کا ظہور تاریخ میں ایک انقلاب کا ظہور تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں کے ذریعے تاریخ انسانی میں پہلی بار آزادی کا دور آیا۔ اس سے پہلے ہزاروں سال سے دنیا میں شخصی سلطنت کا مستبدانہ نظام (despotism) قائم تھا۔ اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی تھیں کہ بظاہر اُن کو ختم کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول کی قربانیوں سے تاریخ میں ایک ایسا طاقت ور پراسس جاری ہوا جس نے شخصی مطلق العنانی کے نظامِ حکومت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ قرآن میں اس انقلابی واقعے کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا (24:55)۔ یعنی، ایسا لازما ہونا ہے کہ دنیا سے دور خوف کا خاتمہ ہو اور دورِ امن ابدی طور پر دنیا میں آ جائے۔ حضرت عمر فاروق نے ایک عظیم سلطنت کے حکمران کی حیثیت سے اپنے عہد خلافت میں اسی حقیقت کا اظہار کیا تھا، جب کہ انھوں نے ایک واقعے کے بعد مصر کے مسلم گورنر کو خطاب کرتے ہوئے کہا: مُذْ كَمْ تَعْبَدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا (فتوح مصر والمغرب لابن عبد الحكم، صفحہ 195)۔ یعنی، اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، جب کہ ان کی ماؤں نے اُن کو آزاد پیدا کیا تھا۔ یہ انقلابی عمل تاریخ میں جاری رہا، یہاں تک کہ وہ سفر کرتے ہوئے یورپ تک پہنچ گیا۔ گیارہ سو سال کے بعد فرانس کے جمہوری مفکر روسو (Rousseau) نے اپنی کتاب ’سوشل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader