Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 628

By Maulana Wahiduddin Khan

کنٹریکٹ میں لکھا کہ انسان آزاد پیدا ہوا تھا، لیکن میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں: Man was born free, but I see him in chains. اسی انقلابی عمل (revolutionary process) کے بعد کے مرحلے میں 1789 میں فرانسیسی انقلاب (French Revolution) کا واقعہ ہوا۔ اس انقلابی عمل کی تکمیل 1948 میں ہوئی جب کہ دنیا کی تمام قوموں کے اتفاق سے اقوام متحدہ (UNO) کی عالمی تنظیم وجود میں آئی۔ انسانی تاریخ میں آزادی کے دور کا آنا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ گویا کہ تاریخ میں ایک شاہ ضرب (master stroke) کا معاملہ تھا جس کے نتیجے میں اُن تمام امکانیات کی ان فولڈنگ (unfolding) شروع ہو گئی جس کو خالق نے انسان کے لیے مقدر کیا تھا۔ اس دورِ آزادی کا پہلا فائدہ یہ تھا کہ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسانی زندگی میں آزادی کا وہ دور شروع ہوا جب کہ کھلے ماحول میں ہر عورت اور مرد کا امتحان (test) ممکن ہو سکے۔ اسی کے نتیجے میں دنیا کی سیاست میں سیکولرازم اور جمہوریت کا زمانہ آیا جس نے تاریخ میں پہلی بار مذہبی جبر کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ اسی کے بعد یہ ممکن ہوا کہ انسان ہر قسم کے توہمات (superstitions) سے آزاد ہو کر فطرت کا مطالعہ کرے۔ اسی مطالعے کا نتیجہ سائنسی علوم کا ظہور تھا جس نے پہلی بار انسان کے لیے اعلی معرفت (higher realization) کا دروازہ کھول دیا۔ اسی کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس اور جدید مواصلات کی دریافت ہوئی جس نے تاریخ میں پہلی بار عالمی دعوت کو ممکن بنا دیا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں آزادی کو خیرِ اعلیٰ کہا جاتا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے۔ لیکن موجودہ دنیا میں آزادی کے ساتھ آزادی کے غلط استعمال (misuse of freedom) کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اس بنا پر آزادی کی قدر و قیمت کو صرف اُس وقت سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ لوگوں کی طرف سے آزادی کے غلط استعمال کے پہلو کو الگ کر کے اس کا مطالعہ کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page