زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 637
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اتباع کرنا ہے۔ اس نظریے کا بانی سگمُنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) تھا۔ وہ 1856 میں آسٹریلیا (مشرقی یورپ) میں پیدا ہوا اور 1939 میں اس کی وفات ہوئی۔ 4۔ چوتھا نظریاتی ستون وہ ہے جو کارلس مارکس (Karl Henrich Marx) کے افکار (thoughts) پر مبنی ہے۔ کارلس مارکس 1818 میں جرمنی میں پیدا ہوا اور 1883 میں لندن میں اس کی وفات ہوئی۔ کارلس مارکس کے پیش کردہ نظریاتی ستون کو میں اپنے الفاظ میں، مبنی بر نظام فکر (system-based thinking) کہوں گا۔ کارلس مارکس کے افکار کے تحت تاریخ میں پہلی بار وہ اجتماعی فکر پیدا ہوا جس نے سماج کی تشکیل میں نظام (system) کو بنیادی حیثیت دے دی ۔ کارلس مارکس کا اصل فلسفہ اگرچہ اب زیادہ تر کتب خانے کی چیز بن چکا ہے، لیکن مبنی بر نظام فکر اب بھی بہت سے لوگوں کے ذہن کا سرگرم حصہ بنا ہوا ہے۔ یورپ کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد جو تہذیب وجود میں آئی اور جو افکار دنیا میں رائج ہوئے، ان کے یہی چار نظریاتی ستون تھے۔ ان چار نظریاتی ستونوں کو ایک لفظ میں، زندگی اور کائنات کی مادی توجیہہ (material interpretation) کہا جاسکتا ہے۔ یہ نظریاتی توجیہات موجودہ زمانے میں اتنا زیادہ عام ہوئیں کہ انھوں نے قدیم الہیاتی توجیہہ (theological interpretation) کی جگہ لے لی۔ موجودہ زمانے میں جو دنیا پرستانہ ذہن رائج ہوا، اس کا سبب یہی جدید افکار تھے۔ ان جدید افکار کا اثر کم وبیش تمام قوموں پر پڑا، مسلم اقوام پر بھی اور غیر مسلم اقوام پر بھی۔ مذکورہ چار نظریاتی ستون اگرچہ خالص علمی اعتبار سے، ابھی تک غیر ثابت شدہ ہیں، مگر عملی اعتبار سے ابھی تک انھیں کا رواج ساری دنیا میں قائم ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader