زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 636
By Maulana Wahiduddin Khan
چار نظریاتی ستون وہ چیز جس کو جدید فکر (modern thought) کہا جاتا ہے، اُس کے چار نظریاتی ستون ہیں۔ یہ چار نظریاتی ستون خالص علمی اعتبار سے، ابھی تک غیر ثابت شدہ ہیں، لیکن عملاً یہی چار نظریات دنیا کے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں۔ دنیا کی بیش تر آبادی کے لیے یہ چار نظریات گویا سیکولر عقیدہ (secular belief) کی حیثیت رکھتے ہیں، کچھ لوگوں کے لیے شعوری طور پر اور کچھ لوگوں کے لیے غیر شعوری طور پر۔ 1۔ ان میں سے ایک نظریاتی ستون وہ ہے جس کو نظریہ ارتقا (evolution theory) کہا جاتا ہے۔ یہی مبنی بر ارتقا فکر (evolution-based thinking) ہے جس کے تحت موجودہ زمانے میں تمام حیاتیاتی مظاہر کی توجیہہ کی جاتی ہے۔ یہ توجیحات اگرچہ خالص علمی اعتبار سے مفروضات کی حیثیت رکھتی ہیں، مگر عملاً عصر حاضر کے ذہن پر اُنھیں کا غلبہ ہے۔ نظریہ ارتقا کا بانی چارلس ڈارون (Charles Robert Darwin) تھا۔ ڈارون 1809 میں برطانیہ میں پیدا ہوا اور 1882 میں اس کا انتقال ہوا۔ 2۔ دوسرا نظریاتی ستون وہ ہے جس کو اصولِ تعلیل (principle of causation) کہا جاتا ہے۔ یہی مبنی بر اسباب فکر (causation-based thinking) ہے جس کے تحت تمام طبیعی واقعات کی توجیہہ کی جاتی ہے۔ اس نظریے کا بانی آئزک نیوٹن (Isaak Newton) تھا۔ نیوٹن 1642 میں انگلینڈ میں پیدا ہوا اور 1727 میں اس کی وفات ہوئی۔ طبیعی واقعات کی توجیہہ نیچرل اسباب (natural causes) سے کرنا سائنسی دنیا میں عام طور پر رائج ہو گیا اور عملاً وہ ابھی تک رائج ہے، اگرچہ بعد کی سائنسی تحقیقات اس توجیہہ کو غیر علمی ثابت کر چکی ہیں۔ 3۔ تیسرا نظریاتی ستون وہ ہے جس میں انسانی شخصیت کی توجیہہ خواہش کی بنیاد پر کی جاتی ہے، یعنی مبنی بر خواہش فکر (desire-based thinking)۔ اس نظریے کے مطابق، انسان کے اندر جو خواہش ہے، وہی اس کی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔ گویا انسان کو اپنی خواہش پر کنٹرول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader