Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

فلسفہ کی تاریخ بتاتا ہے کہ تقریباً تمام فلسفی کسی نہ کسی طور پر ایک برتر ہستی کا اقرار کرتے تھے۔ اگر چہ انھوں نے ”خدا“ کا لفظ استعمال کرنے سے احتراز کیا، لیکن کچھ دوسرے الفاظ بول کر وہ خدا جیسی ایک ہستی کی موجودگی کا اعتراف کرتے رہے۔ مثلاً جرمنی کے مشہور فلسفی فریڈرک ہیگل (وفات 1831) نے اس برتر ہستی کو ورلڈ سپرٹ (world spirit) کا نام دیا، وغیرہ۔ اس کے بعد میں نے چاہا کہ میں سائنسی طریقِ استدلال (scientific method) کے ذریعے اس معاملے کی تحقیق کروں۔ سائنسی مطالعہ میں جو مسلّم طریقہ استعمال کیا جاتا ہے، وہ مشاہدات پر مبنی ہوتا ہے۔ مگر اس مشاہداتی استدلال کے دو دور ہیں۔ سائنس کا مطالعہ جب تک عالمِ کبیر (macro world) تک محدود تھا، اُس وقت تک اس استدلال کا صرف ایک طریقہ رائج تھا۔ لیکن جب سائنس کا مطالعاتی سفر عالمِ صغیر (micro world) تک پہنچ گیا تو اس استدلال میں ایک تبدیلی واقع ہوئی۔ وہ یہ کہ پہلے اگر مشاہداتی استدلال (observational argument) کو درست مانا جاتا تھا، تو اب استنباطی استدلال (inferential argument) کو بھی یکساں طور پر درست (valid) مانا جانے لگا، یعنی پہلے اگر آرگومنٹ فرام سین ٹُو سین (argument from seen to seen) کا اصول رائج تھا تو اب آرگومنٹ فرام سین ٹُو اَن سین (argument from seen to unseen) کا اصول بھی درست استدلال کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا۔ ان دونوں طریقوں کو فنی زبان میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: 1. Observation, hypothesis, verification 2. Hypothesis, observation, verification ایک سادہ مثال سے اس معاملے کی عملی وضاحت ہوتی ہے۔ مثلاً آپ سیب کو شمار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کہتے ہیں ۔ دو سیب جمع دو سیب، برابر چار سیب۔ یہ مشاہداتی استدلال کی ایک مثال ہے۔ دوسرے استدلال کی مثال یہ ہے کہ نیوٹن (وفات 1727) نے دیکھا کہ ایک سیب درخت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page